ریاض :سعودی عرب کی وزارتِ خزانہ کے مطابق سال 2025ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران مملکت کی حقیقی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 3.6 فیصد کی نمایاں شرح سے نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ پیش رفت سعودی معیشت کی مضبوط پالیسیوں، متوازن مالی نظم و ضبط اور وژن 2030 کے اہداف کی جانب مسلسل پیش قدمی کی عکاسی کرتی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مملکت نے عالمی معاشی اتار چڑھاؤ اور تیل کی قیمتوں میں تغیر کے باوجود اپنی مالیاتی پوزیشن کو مضبوطی سے برقرار رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، رواں سال کی تیسری سہ ماہی کے اختتام تک سعودی عرب کے سرکاری ذخائر کی سطح 398 ارب ریال سے تجاوز کر گئی، جو خطے میں معاشی استحکام اور مالی خودمختاری کا مظہر ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ شرحِ نمو غیر تیل والے شعبوں میں سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار، ٹیکنالوجی اور خدمات کے فروغ سے ممکن ہوئی ہے۔ سعودی حکومت کی مالیاتی اصلاحات، کاروباری ماحول میں بہتری، اور نجی شعبے کی سرگرمیوں کے فروغ نے مجموعی اقتصادی کارکردگی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ مملکت مستقبل میں بھی مالیاتی نظم و ضبط، پائیدار ترقی اور وژن 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے پرعزم ہے، تاکہ سعودی عرب عالمی معیشت میں ایک مستحکم اور مؤثر کردار ادا کرتا رہے۔
