ریاض: سعودی عرب میں جاری کاروباری نمائشیں اور بین الاقوامی ایونٹس عالمی اور خصوصاً چینی کاروباری اداروں کے لیے مضبوط مواقع فراہم کر رہی ہیں تاکہ وہ سعودی مارکیٹ میں داخل ہو کر اپنے برانڈ کو مستحکم کریں اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کریں۔
حالیہ چائنا نائٹ میں شرکت کرنے والی ’لیومِینس ورلڈ ٹریڈ‘ کی چیئر وومن چن چنگ چیئے نے عرب نیوز کو بتایا کہ یہ نمائشیں کاروبار کرنے کے مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں اور سعودی مارکیٹ میں کمپنیوں کی مقامی شناخت اور اثر و رسوخ بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
اسی حوالے سے ’پاور چائنا اویئسس انجینیئرنگ کنسلٹینسی‘ کے سی ای او یاؤ بن نے کہا کہ سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع، سعودی وژن 2030 کے اہداف، چین کے کاروباری توسیعی منصوبوں اور بین الاقوامی تعاون کی حکمت عملی سے ہم آہنگ ہیں۔
سدھیش سسیدھرن، اسسٹنٹ مارکٹنگ مینیجر ہانگ کانگ ٹریڈ ڈیویلپمنٹ کونسل، نے مزید بتایا کہ سعودی عرب میں ہونے والی مختلف نمائشیں بڑے عالمی اور علاقائی کاروباری اداروں اور پیشہ ور افراد کو آپس میں مربوط کر رہی ہیں، اور سعودی وژن 2030 کے متنوع اہداف کو حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے ایونٹس میں سمارٹ شہر، قابل تجدید توانائی، جدید ٹرانسپورٹیشن، صارفین کی اشیا اور جدید ٹیکنالوجی جیسے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے تاکہ سرمایہ کاری کے نئے مواقع سامنے آئیں اور کاروباری ترقی کی رفتار تیز ہو۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معیار، نمائشوں کی درجہ بندی اور نمائندگی میں ترقی کی رفتار بہت زیادہ ہے، اور خاص طور پر انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چین کی موجودگی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے، جبکہ ہانگ کانگ ایک اہم پُل کا کردار ادا کر رہا ہے جس کے ذریعے چین اور سعودی عرب کے کاروباری روابط مضبوط ہو رہے ہیں۔
یہ نمائشیں نہ صرف سعودی عرب میں کاروباری توسیع کا موقع فراہم کر رہی ہیں بلکہ عالمی سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون کو بھی فروغ دے رہی ہیں، جس سے سعودی عرب میں بین الاقوامی کاروباری ماحول مزید مستحکم اور متنوع بنتا جا رہا ہے۔
