ریاض: سعودی عرب کی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (SFDA) نے مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والا ایک جدید ماڈل متعارف کرایا ہے جو مملکت میں دواوں کی ممکنہ قلت کی پیش گوئی کر سکے گا۔
عرب نیوز کے مطابق، SFDA کے سی ای او ہشام ایس الجادحی نے ریاض میں جاری ’گلوبل ہیلتھ‘ نمائش کے دوران اس سمارٹ ماڈل کا افتتاح کیا۔ یہ ماڈل بین الاقوامی سطح پر تیار کردہ جدید ترین تکنیکوں پر مبنی ہے اور دواوں کے تاریخی ڈیٹا کا مسلسل تجزیہ کرتا ہے تاکہ مستقبل میں ممکنہ قلت کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
SFDA کا کہنا ہے کہ یہ جدت پسند ماڈل دواوں کی فراہمی کے قومی نظام میں انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس سے نہ صرف ادویات کی سپلائی کا انتظام بہتر ہوگا بلکہ مریضوں کو بروقت دوائیں فراہم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ ماڈل کمپیوٹر کے جدید الگوردمز پر انحصار کرتا ہے اور ہر دوا کے لیے ڈیٹا کا مسلسل تجزیہ کر کے فیصلہ سازی میں سہولت فراہم کرتا ہے۔
ہشام ایس الجادحی نے کہا کہ یہ اقدام سعودی عرب کی صحتِ عامہ کے لیے عزم اور دوا سازی کے شعبے میں عالمی معیار پر مسابقت کو بڑھانے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیش رفت ’سعودی وژن 2030‘ کے ڈیجٹیل ٹرانسفارمیشن کے نصب العین کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہے اور ملک میں صحت کی خدمات کو زیادہ مؤثر اور جدید بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
SFDA کا ماننا ہے کہ AI کی مدد سے یہ ماڈل دواوں کی قلت کو پہلے سے پیش گوئی کر کے بروقت اقدامات کو ممکن بنائے گا، جس سے نہ صرف مریضوں کو فائدہ ہوگا بلکہ صحت کے شعبے میں منصوبہ بندی اور انتظام بھی مزید مضبوط ہوگا۔
