شرم الشیخ سعودی عرب نے انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف سپریم آڈٹ انسٹی ٹیوشنز (INTOSAI) کی صدارت 2031 سے شروع ہونے والی تین سالہ مدت کے لیے جیت کر ایک تاریخی کامیابی حاصل کر لی۔
یہ اعلان تنظیم کی 25ویں جنرل اسمبلی کے دوران مصر کے شہر شرم الشیخ میں کیا گیا، جہاں دنیا کے 195 سے زائد ممالک کے نمائندے شریک تھے۔
اس کامیابی کے نتیجے میں سعودی عرب نہ صرف بین الاقوامی آڈٹنگ کے میدان میں ایک قائدانہ حیثیت اختیار کرے گا بلکہ وہ مالیاتی شفافیت، گڈ گورننس اور کارکردگی میں بہتری کے عالمی اہداف کی قیادت بھی کرے گا۔ مملکت کی نمائندگی جنرل آڈیٹنگ بیورو (GAB) نے کی، جو اب دنیا کے سب سے بڑے آڈٹ پلیٹ فارم پر مرکزی کردار ادا کرے گا۔
جنرل آڈیٹنگ بیورو کے صدر ڈاکٹر حسام العنقری نے کہا کہ INTOSAI کی صدارت جیتنا مملکت کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی حیثیت اور اعتماد کا مظہر ہے۔ان کے مطابق یہ کامیابی خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی غیر معمولی قیادت اور بھرپور سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں تھی۔
ڈاکٹر العنقری نے کہایہ اعزاز مملکت کے ترقی کے سفر میں ایک نیا سنگِ میل ہے۔ حکومت کی حمایت نے جنرل آڈیٹنگ بیورو کو ٹیکنالوجی، تنظیمی ڈھانچے اور انسانی وسائل کے میدان میں معیاری تبدیلیاں لانے کے قابل بنایا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی یہ پیش رفت نہ صرف عوامی فنڈز کے تحفظ اور حکومتی کارکردگی کے فروغ میں مددگار ہوگی بلکہ عالمی سطح پر آڈٹنگ اور احتساب کے نئے معیار قائم کرے گی۔
INTOSAI دنیا کی سب سے بڑی اور قدیم تنظیم ہے جو اعلیٰ آڈٹ اداروں کو اکٹھا کرتی ہے۔یہ تنظیم ستر سال قبل قائم ہوئی اور اس کے تحت اب 195 سے زیادہ ممالک کے پبلک سیکٹر آڈٹ ادارے منسلک ہیں۔اس کا مقصد شفافیت، احتساب اور گڈ گورننس کو فروغ دینا ہے تاکہ دنیا بھر میں شہریوں کی زندگیوں میں بہتری لائی جا سکے۔
سعودی عرب کی یہ کامیابی نہ صرف آڈٹ اور فنانس کے میدان میں ایک عالمی قیادت کے طور پر اس کے کردار کو اجاگر کرتی ہے بلکہ یہ ویژن 2030 کے اہداف سے بھی مطابقت رکھتی ہے، جن کا مقصد مؤثر طرزِ حکمرانی اور ادارہ جاتی کارکردگی کو فروغ دینا ہے۔
2031 میں جب سعودی عرب INTOSAI کی قیادت سنبھالےگا،تو وہ دنیا بھر کے ممالک کے لیےشفافیت اوراحتساب کے ایک نئے عالمی ماڈل کی راہ ہموار کرے گا۔
