جدہ:سعودی عرب نے ہوا بازی کے شعبے میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ مملکت کی پہلی انٹرنیٹ سروس سے لیس فضائی پرواز جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ریاض کے لیے روانہ ہو گئی۔ یہ پرواز ایک پائلٹ پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد سروس کو جانچنا اور تجارتی آغاز سے پہلے مسافروں اور صارفین کی آراء جمع کرنا ہے۔
اس تاریخی پرواز میں سعودی وزیرِ ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس، صالح الجاسر اور سعودی ایئر لائنز کے ڈائریکٹر جنرل، انجینئر ابراہیم العمر بھی موجود تھے۔العربیہ ٹی وی کو لائیو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِ ٹرانسپورٹ صالح الجاسر نے کہا انٹرنیٹ سروس اب عیش و آرام کی سہولت نہیں بلکہ ایک تکنیکی ضرورت بن چکی ہے۔ یہ مملکت کے ہوا بازی اور فضائی نقل و حمل کے شعبے میں جاری ڈیجیٹل تبدیلی کا ایک اسٹریٹجک جزو ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی ایئرلائنز اپنی پروازوں میں اس جدید انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کےحتمی تکنیکی ٹرائلز کر رہی ہے تاکہ اس کے مکمل نفاذ سے پہلے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
مزید برآں، وزیرِ ٹرانسپورٹ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس سروس کی تکمیل میں تیزی لائیں تاکہ تمام ضروری اقدامات مکمل ہونے کے بعد اسے پورے سعودی ایئرلائنز کے بیڑے میں نافذ کیا جا سکے۔
سعودی ایئرلائنز کے ڈائریکٹر جنرل، انجینئر ابراہیم العمر نے اعلان کیا کہ یہ انٹرنیٹ سروس جلد ہی تمام کیٹیگریز کے مسافروں کے لیے مفت دستیاب ہوگی۔ان کا کہنا تھااب تک تقریباً ۲۰ طیارے اس نئی سروس سے لیس ہو چکے ہیں، اور ہم اسے اپنے موجودہ فلیٹ کے ساتھ ساتھ نئے آنے والے طیاروں میں بھی شامل کر رہے ہیں۔”
سعودی عرب کی یہ پیش رفت نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی ہوا بازی میں بھی ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس اقدام سے مملکت کی فضائی صنعت میں ڈیجیٹل سہولتوں، کنیکٹیویٹی، اور مسافروں کے تجربے میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
