واشنگٹن/ریاض :امریکی وائٹ ہاؤس کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان رواں ماہ 18 نومبر کو امریکا کے سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچیں گے۔یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ خطے میں جاری سیاسی تبدیلیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں نئی صف بندی کے پس منظر میں یہ ملاقات غیر معمولی سفارتی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
یہ شہزادہ محمد بن سلمان کا امریکی دارالحکومت کا دوسرا دورہ ہو گا۔ اس سے قبل وہ 2018 میں اپنے پہلے سرکاری دورے پر واشنگٹن گئے تھے، جو سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی خصوصی ہدایت پر کیا گیا تھا۔تجزیہ کاروں کے مطابق چھ سال بعد ہونے والا یہ نیا دورہ سعودی قیادت کے عالمی کردار اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نئی جہتوں کا مظہر ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اس دورے سے قبل سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے امریکی ہم منصب مارکو روبیو سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات، خطے کی تازہ صورتحال، اور عالمی سطح پر استحکام کے لیے جاری مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق، اس بات چیت میں مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں کے حل، توانائی تعاون، اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی گفتگو ہوئی۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں سال مئی میں اپنے دوسرے صدارتی دور کے آغاز کے بعد پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب گئے تھے۔یہ دورہ نہ صرف امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات کی بحالی کی علامت سمجھا گیا بلکہ اس نے خلیجی خطے کی جیوپولیٹیکل اہمیت کو بھی عالمی منظرنامے پر اجاگر کیا۔ماہرین کے مطابق، خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں علاقائی استحکام، معاشی اصلاحات، وژن 2030 کے منصوبوں، اور بین الاقوامی سرمایہ کاری میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دورہ ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب امریکا، چین اور روس کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ کی دوڑ تیز ہو چکی ہے۔سعودی ولی عہد کا واشنگٹن آنا بظاہر ایک سفارتی توازن کی حکمتِ عملی ہے، جس کے ذریعے ریاض اپنی خارجہ پالیسی میں توازن اور خودمختاری کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ذرائع کے مطابق اس دورے میں توانائی معاہدے، سیکیورٹی تعاون، دفاعی سودے، اور سرمایہ کاری کے منصوبے زیرِ غور آئیں گے۔
امریکی اور سعودی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ ملاقات نئے معاشی اور دفاعی تعاون کے دروازے کھول سکتی ہے۔توقع ہے کہ اس دوران مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے جو تکنیکی تبادلوں، ماحولیاتی منصوبوں، اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات پر کام کریں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، اگر یہ دورہ کامیاب رہا تو یہ امریکاسعودی تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز ہو گا، جو خطے کے امن اور اقتصادی ترقی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
