سعودی عرب کی کابینہ نے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت ریاض میں منگل کو ہونے والے اجلاس میں مستقبل سرمایہ کاری کانفرنس میں عالمی سطح پر بلند پایہ شرکت کو مملکت کے عالمی مقام، ترقیاتی کامیابیوں اور ویژن 2030 کے عملی ثمرات کی عکاسی قرار دیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ یہ ویژن سعودی عرب کو بین الاقوامی اقتصادی مرکز اور دنیا بھر کے قائدین و موجدین کے لیے ایک پلیٹ فارم بنا چکا ہے جہاں خیالات کو عملی حکمت عملیوں میں بدلا جاتا ہے اور سرمایہ کاری کے مستقبل کی سمت متعین کی جاتی ہے۔
ولی عہد نے اجلاس میں اپنی حالیہ ملاقاتوں کی تفصیلات پیش کیں جو انہوں نے برادر اور دوست ممالک کے سربراہان اور وزرائے اعظم سے کیں، جو "مستقبل سرمایہ کاری کانفرنس” میں شرکت کے لیے سعودی عرب آئے تھے۔ کابینہ نے سعودی معیشت کی عالمی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کی صلاحیت، غیر تیل شعبوں میں ترقی اور جدید صنعت، ٹیکنالوجی، سیاحت اور کاروباری قیادت میں نمایاں پیش رفت کو سراہا۔ نجی شعبے کے کردار کی بھی تعریف کی گئی جس نے ویژن 2030 کے آغاز سے غیر تیل معیشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
اجلاس میں بین الاقوامی ادارہ برائے اعلیٰ مالیاتی نگرانی اور محاسبہ (انٹوسائی) کی صدارت سعودی عرب کو سنہ 2031ء سے تین سال کے لیے دینے پر خوشی کا اظہار کیا گیا اور اسے مملکت کی قائدانہ حیثیت، شفافیت اور بہتر حکمرانی کے فروغ کی علامت قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اور کویت کے درمیان مالی تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت اور سعودی اتھارٹی برائے تعلیم و تربیت اور جامعہ کویت کے درمیان پیمائش، جانچ اور منظوری کے شعبے میں تعاون کے معاہدے کی بھی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے بلدیاتی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنے والوں کے لیے مخصوص ضوابط کے تحت مالی انعامات دینے، کیمیائی مشاورت کے پیشہ ورانہ لائسنسوں کے اجرا کے اختیارات وزارت تجارت سے وزارت توانائی کو منتقل کرنے، اور وزارت صنعت و معدنی وسائل کے ساتھ وزارت مالیات کے اشتراک میں سرکاری صحت کے اداروں کے بجٹ میں دواسازی کی صنعت کے فروغ کے لیے خصوصی باب شامل کرنے کی منظوری بھی دی۔ اجلاس میں یہ تمام فیصلے سعودی عرب کی ترقی، اقتصادی استحکام اور ویژن 2030 کے اہداف کے تحت کیے گئے۔
