ریاض: سعودی عرب میں شہریوں اور رہائشیوں کے اخراجات میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے ملک کی اقتصادی سرگرمیوں میں نئی جان پھونکنے کا اشارہ ملا ہے۔
سعودی سینٹرل بینک (SAMA) کی تازہ رپورٹ کے مطابق، 26 اکتوبر سے یکم نومبر 2025 تک مجموعی اخراجات 16 ارب ریال تک پہنچ گئے، جو پچھلے ہفتے کے 11.6 ارب ریال کے مقابلے میں 37.1 فیصد زیادہ ہیں۔ صرف ایک ہفتے میں شہریوں نے 4.4 ارب ریال اضافی خرچ کیے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سعودی عوام نے خریداری کے جوش میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔
ریاض کے شہریوں نے سب سے زیادہ 5.4 ارب ریال خرچ کیے، جب کہ جدہ میں 2 ارب ریال، دمام میں 766.5 ملین ریال، مکہ مکرمہ میں 65 ملین ریال، اور مدینہ منورہ میں 64 ملین ریال کے اخراجات ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق مختلف شعبوں میں شہریوں کی خریداری کی تفصیل بھی متاثر کن ہے ٹرانسپورٹ میں 1.1 ارب ریال، صحت میں 1 ارب ریال، ٹیلی کمیونیکیشن میں 242.1 ملین ریال، تعلیم میں 189.4 ملین ریال، جبکہ ریستوران اور کیفے میں 1.8 ارب ریال کے اخراجات ریکارڈ ہوئے۔ بیکری اور مٹھائیوں کی خریداری میں 40 فیصد اضافہ ہوا، کپڑوں اور لوازمات پر 1.3 ارب ریال، لانڈری خدمات پر 69.5 ملین ریال، تفریح و ثقافت پر 372.2 ملین ریال، اور ہوٹلنگ پر 376 ملین ریال خرچ کیا گیا۔
اس دوران فوڈ اینڈ بیوریجز پر 2.6 ارب ریال، الیکٹرانک اشیا کی خریداری پر 220.1 ملین ریال، فرنیچر اور گھریلو سامان پر 605.7 ملین ریال، تعمیراتی سامان پر 440.5 ملین ریال، اور پروفیشنل و تجارتی خدمات پر 870.6 ملین ریال کے اخراجات ریکارڈ کیے گئے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ اضافے ملکی معیشت کی مضبوطی اور شہریوں کی خریداری کی سرگرمیوں میں تیزی کا واضح اشارہ ہیں، تاہم طویل مدتی طور پر اس رجحان سے افراطِ زر اور روزمرہ ضروریات پر دباؤ پیدا ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
سماجی اور تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ خاص طور پر ریستوران، کیفے، فوڈ اینڈ بیوریجز اور تفریح و ثقافت کے شعبوں میں نمایاں اضافے سے ملک میں صارفین کی خوشحالی اور آزادانہ معاشی سرگرمیوں کی جھلک ملتی ہے۔ رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عوام کی بڑھتی ہوئی خریداری نہ صرف مارکیٹ میں مصنوعات اور خدمات کی طلب بڑھا رہی ہے بلکہ مستقبل میں اقتصادی ترقی کے روشن امکانات کی طرف بھی اشارہ کر رہی ہے۔
