سعودی عرب نومبر 2025 میں ایک ایسے تاریخی موقع کی میزبانی کرنے جا رہا ہے جو نہ صرف اس کی سیاحتی صنعت بلکہ عالمی سفارتی منظرنامے کے لیے بھی ایک نیا موڑ ثابت ہوگا۔ مملکت اقوام متحدہ کی عالمی سیاحتی تنظیم (UNWTO) کی 26ویں جنرل اسمبلی کی میزبانی کرے گی جو 7 سے 11 نومبر 2025 تک ریاض میں منعقد ہوگی۔ یہ اجلاس تنظیم کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے اور اس میں 160 سے زائد رکن ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود، وزراء، ماہرین، سرمایہ کار، اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ یہ ایونٹ نہ صرف سیاحت کے مستقبل پر بحث کرے گا بلکہ آنے والے عشروں کے لیے عالمی پالیسی فریم ورک تیار کرنے کا سنگِ میل بھی بنے گا۔
اس کانفرنس کا مرکزی موضوع رکھا گیا ہے:
“Artificial Intelligence سے تقویت یافتہ سیاحت: مستقبل کی نئی تعریف”
یہ عنوان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت، اب سیاحت کے تجربے کو نئی جہت دینے جا رہی ہے۔ جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، اسمارٹ انالٹکس، اور خودکار نظاموں کے ذریعے سیاحتی خدمات کو بہتر، تیز اور زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ کس طرح AI، Big Data، اور Internet of Things (IoT) جیسے جدید اوزار سیاحتی تجربات کو محفوظ، ذاتی نوعیت کا، اور پائیدار بنا سکتے ہیں۔
اس تاریخی اجلاس کے انعقاد کے حوالے سے سعودی وزیرِ سیاحت احمد الخطیب نے اپنے بیان میں کہا کہ:
"ہم دنیا بھر کے رہنماؤں کو ریاض آنے اور اس عالمی تقریب کا حصہ بننے کی دعوت دیتے ہیں، جو سیاحت کے میدان میں بین الاقوامی تعاون اور سفارت کاری کا نیا باب ثابت ہوگی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یہ فخر کی بات ہے کہ سعودی عرب خلیجی خطے کی پہلی ریاست ہے جسے اقوام متحدہ کی کسی ایجنسی کی جنرل اسمبلی کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ ان کے مطابق، یہ کامیابی عالمی سطح پر مملکت پر بڑھتے اعتماد اور اس کے قائدانہ کردار کی علامت ہے۔
سعودی وزارتِ سیاحت کے مطابق، اجلاس کے دوران چار بڑے عمومی سیشن ہوں گے، جن میں تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل کا انتخاب بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں، UNWTO Executive Council کے 124ویں اور 125ویں اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔ اجلاس میں مختلف ممالک کی خصوصی کمیٹیاں اپنی رپورٹس پیش کریں گی، جبکہ ایک اہم موضوعی اجلاس "مصنوعی ذہانت اور سیاحت کے مستقبل” کے عنوان سے منعقد ہوگا جس میں ماہرین اس بات پر بحث کریں گے کہ جدید ٹیکنالوجی عالمی سفر کے انداز کو کس طرح تبدیل کر سکتی ہے۔
یہ اجلاس دراصل مملکت کی ویژن 2030 پالیسی سے جڑا ہوا ہے — ایک ایسا وژن جو سعودی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر سیاحت، ثقافت، سرمایہ کاری اور اختراع پر مبنی معاشی نظام میں تبدیل کرنے کی سمت بڑھ رہا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں سعودی عرب نے سیاحت کے شعبے میں شاندار ترقی کی ہے، جہاں نیوم، العُلا، القدیہ، ریڈ سی پراجیکٹ اور دیگر منصوبے عالمی توجہ کا مرکز بنے ہیں۔
اسی سلسلے میں، سعودی عرب 11 تا 13 نومبر کو Tourism Innovation and Sustainability Forum (پہلا عالمی ٹورائز فورم) کی بھی میزبانی کرے گا۔ یہ فورم جنرل اسمبلی کے اختتام کے فوراً بعد منعقد ہوگا اور اس میں ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، ماحولیاتی تحفظ اور ثقافت سے وابستہ بین الاقوامی شخصیات شرکت کریں گی۔ اس کا مقصد یہ ہوگا کہ عالمی شراکت داری کے ذریعے سیاحت کے شعبے کو زیادہ پائیدار، جامع اور منافع بخش بنایا جائے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، اس فورم میں عالمی سرمایہ کاروں، پالیسی سازوں اور سیاحتی تنظیموں کے درمیان براہِ راست مکالمے ہوں گے تاکہ آئندہ پچاس سالوں کے لیے سیاحت کے شعبے کی سمت طے کی جا سکے۔ یہ پلیٹ فارم مستقبل کے چیلنجوں جیسے کلائمیٹ چینج، اوور ٹورزم، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور سسٹینیبل انفراسٹرکچر پر بھی روشنی ڈالے گا۔
سعودی عرب کے لیے یہ میزبانی محض ایک سفارتی اعزاز نہیں بلکہ عالمی سیاحت میں قیادت کا اعلان ہے۔ مملکت نے پچھلے چند برسوں میں اس شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے اور عالمی سطح پر "سعودی ٹورزم ماڈل” کو کامیابی کے ساتھ متعارف کرایا ہے — ایک ایسا ماڈل جو ثقافتی ورثے، جدید انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے امتزاج سے سیاحت کو ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بناتا ہے۔
سعودی وزیر سیاحت کے مطابق:
"ہمیں یقین ہے کہ سیاحت صرف ایک انڈسٹری نہیں بلکہ ترقی، روزگار، امن اور ثقافتی مکالمے کا ذریعہ ہے۔ ریاض میں ہونے والی یہ جنرل اسمبلی دنیا بھر کے لیے ایک پیغام ہے کہ پائیدار ترقی صرف ممکن ہی نہیں بلکہ ضروری ہے۔”
یوں ریاض میں ہونے والا یہ اجلاس نہ صرف اقوام متحدہ کی سیاحتی تنظیم کے لیے ایک سنگ میل ہوگا بلکہ یہ دنیا بھر کے لیے ایک نئے دور کی علامت بھی بنے گا — ایک ایسا دور جس میں سیاحت کو مصنوعی ذہانت اور عالمی تعاون کے ذریعے انسانیت کی خدمت میں ڈھالا جائے گا۔
