ریاض :سعودی عرب میں نیشنل سائبرسیکیورٹی اتھارٹی نے سائبر جرائم اور خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنے والے شہریوں کے لیے ترغیبی انعامات کا نیا نظام متعارف کرا دیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق، مستند رپورٹرز کو 50 ہزار ریال یا جمع کیے گئے جرمانے کا ایک فیصد تک انعام دیا جا سکتا ہے۔ یہ اقدام مملکت میں سائبرسیکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
اتھارٹی نے بتایا کہ گورنر کے فیصلے کے تحت ایک خصوصی تفتیشی و تشخیصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں گورنر کے عملے کے تین ارکان شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی موصول ہونے والی رپورٹس کا جائزہ لے کر یہ فیصلہ کرے گی کہ اطلاع دینے والا شخص انعام کے لیے اہل ہے یا نہیں، اور ضابطوں کے مطابق انعام کی رقم طے کرے گی۔
اتھارٹی کے مطابق، وہ خلاف ورزیاں جن پر انعام دیا جائے گا ان میں بغیر لائسنس سائبر آپریشنز چلانا، سائبر پالیسیوں اور سیکیورٹی معیارات کی خلاف ورزی، گورننس میکانزم یا کنٹرولز کی عدم تعمیل، اور اتھارٹی کو گمراہ کن معلومات فراہم کرنا شامل ہیں
مزید یہ کہ سائبرسیکیورٹی سے متعلق کوئی بھی ڈیوائس یا سروس بغیر لائسنس کے رکھنا، بیچنا، درآمد یا برآمد کرنا بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔ ایسے افراد جو اتھارٹی کے ضروری لائسنس یا اجازت نامے کے اجرا میں رکاوٹ ڈالیں گے، وہ بھی سزا کے مستحق ہوں گے۔
اتھارٹی کے نئے ضابطۂ انعامات کے مطابق، کسی بھی رپورٹ پر انعام صرف اسی صورت میں دیا جائے گا جب خلاف ورزی ثابت ہو جائے اور اس فیصلے کو حتمی قرار دیا جا چکا ہو۔ اس کے علاوہ، انعام صرف ایسے شخص کو دیا جائے گا جو اتھارٹی کا ملازم، اس کے کسی اہلکار کا قریبی رشتہ دار یا شریک حیات نہ ہو، اور جس کی اطلاع پہلے سے رپورٹ شدہ یا انعام یافتہ خلاف ورزی سے متعلق نہ ہو۔ یہ اقدام مملکت کے ڈیجیٹل تحفظ اور سائبر سیکیورٹی کے قومی فریم ورک کو تقویت دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جو سعودی عرب کے ویژن 2030 کے تحت ٹیکنالوجی کے محفوظ اور شفاف استعمال کے اہداف سے ہم آہنگ ہے
