ریاض:سعودی عرب نے تعلیم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ وزارتِ تعلیم، وزارتِ افرادی قوت اور سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اتھارٹی (سدایا) کے اشتراک سے شروع کیے گئے ’سمائی‘ (SMAI) اقدام کے تحت مملکت بھر میں ایک ملین سعودی شہریوں کو مصنوعی ذہانت (AI) کی تربیت فراہم کی گئی ہےجو وژن 2030 کے تحت ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے خواب کی ایک بڑی عملی مثال ہے۔
‘سمائی‘ پروگرام کا مقصد سعودی شہریوں کو مستقبل کے جدید ترین ہنرخاص طور پر مصنوعی ذہانت، ڈیٹا تجزیہ،مشین لرننگ اور ڈیجیٹل اختراعات میں مہارت دلانا ہے، تاکہ مملکت عالمی مسابقت میں اپنی قیادت کو مزید مستحکم کرسکے۔
اس اقدام میں 52 فیصد خواتین، 48 فیصد مرد اور 30 فیصد طلبا نے حصہ لیا، جب کہ سب سے زیادہ حصہ ملازمت پیشہ طبقے (70 فیصد) کا رہا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سعودی معاشرہ ٹیکنالوجی کے میدان میں مرد و خواتین دونوں کے لیے یکساں مواقع فراہم کر رہا ہے۔
ریاض میں وزارتِ تعلیم کے مرکزی ادارے میں اس تاریخی کامیابی کے موقع پر ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیرِ تعلیم یوسف البنیان، سدایا کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ بن شریف الغامدی، نائب وزیرِ تعلیم ڈاکٹر ایناس بنت سلیمان العیسی، جامعہ امام محمد بن سعود الاسلامیہ کے نگرانِ اعلیٰ ڈاکٹر احمد بن سالم العامری اور سدایا انفارمیشن سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عصام الوقیت سمیت متعدد اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی۔
وزیرِ تعلیم یوسف البنیان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت اب مستقبل نہیں، بلکہ ہمارا حال ہے’سمائی‘ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب اپنے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کے مستقبل کے لیے تیار کر رہا ہے۔
ڈاکٹر عبداللہ الغامدی نے اس موقع پر کہا کہ سدایا کا مقصد ایسا ڈیجیٹل ایکو سسٹم تشکیل دینا ہے جس سے نہ صرف قومی معیشت مضبوط ہو بلکہ عالمی سطح پر سعودی عرب کو مصنوعی ذہانت کا قائد بنایا جا سکے۔
تقریب میں متعدد شرکاء کو اسنادِ امتیاز بھی دی گئیں جنہوں نے ’سمائی‘ پروگرام میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔’سمائی’ اقدام سعودی وژن 2030 کے تحت علم، جدت اور ڈیجیٹل خودکفالت کے سفر کا اہم سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے، جس سے آنے والے برسوں میں سعودی نوجوانوں کے لیے عالمی معیار کے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے
