اسلام آباد / ریاض:پاکستان فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کو سعودی عرب کے اعلیٰ ترین عسکری و شہری اعزاز ’کنگ عبدالعزیز میڈل آف آنر (ایکسِلینٹ کلاس)‘ سے نوازا گیا ہے۔
یہ اعزاز انہیں پاک سعودی دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، عسکری تعاون کے فروغ، اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق،یہ اعزاز سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے منظور کیا گیا، جو سعودی عرب کے اعلیٰ ترین اعزازات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔اس میڈل کا حصول پاکستان اور سعودی عرب کے گہرے، تاریخی اور برادرانہ عسکری تعلقات کا مظہر ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، "جنرل ساحر شمشاد مرزا نے عسکری تعاون کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری، تربیتی پروگراموں اور انسدادِ دہشت گردی کے مشترکہ اقدامات میں کلیدی کردار ادا کیا۔اعزاز حاصل کرنے کے موقع پر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے سعودی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران دونوں فوجی رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و تزویراتی صورتحال، دفاعی تعاون کے نئے مواقع، اور مشترکہ فوجی تربیت و مشقوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خاتمے، خطے کے امن، اور دفاعی صنعت میں تکنیکی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا۔
ذرائع کے مطابق، ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، بحیرہ احمر کے سیکیورٹی چیلنجز، اور اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی ہم آہنگی کے امور پر بھی بات چیت ہوئی۔
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا کہ "پاکستان، سعودی عرب کو نہ صرف اپنا برادر ملک بلکہ دفاعی شراکت دار سمجھتا ہے، اور مستقبل میں مشترکہ سیکیورٹی تعاون مزید بڑھایا جائے گا۔”آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق، سعودی عسکری قیادت نے پاکستانی فوج کے پیشہ ورانہ معیار اور عالمی امن مشنز میں کردار کو سراہا۔
انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے مثالی کردار ادا کر رہا ہے۔”
تجزیہ کاروں کے مطابق، سعودی عرب کی جانب سے دیا گیا یہ اعلیٰ ترین اعزاز اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات صرف سفارتی نہیں بلکہ عملی اور عسکری میدان میں بھی گہرے اعتماد پر مبنی ہیں۔
یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان دفاعی صنعت، انسدادِ دہشت گردی، اور خطے کے امن کے فروغ میں نئے باب کا آغاز ہے۔
