ریاض میں منعقدہ TOURISE سمٹ 2025 کے افتتاحی سیشن کے دوران سعودی عرب کے وزیرِ سیاحت، احمد الخاطیب نے عالمی سیاحت کے شعبے کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کا شعبہ دنیا کے سب سے بڑے روزگار فراہم کرنے والے شعبوں میں شامل ہے اور اس وقت *دنیا بھر میں 357 ملین سے زائد افراد اس صنعت سے وابستہ ہیں۔ مستقبل میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2034 تک یہ شعبہ تقریباً **90 ملین اضافی ملازمتیں پیدا کرے گا، تاہم ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اس وقت *تقریباً 40 ملین عہدوں کا خلا موجود ہے، جس کے لیے فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
الخطیب نے اس بات پر زور دیا کہ یہ روزگار کا مسئلہ صرف کسی ایک ملک یا خطے کا نہیں بلکہ عالمی سطح کا چیلنج ہے، جس پر حال ہی میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی بات کی گئی۔ ان کے مطابق اس خلا کو پر کرنے کے لیے حکومتوں اور نجی شعبے کے درمیان مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ وزیر نے کہا کہ عملی اقدامات، تخلیقی منصوبے اور جدید حل اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ سیاحت کی بڑھتی ہوئی مانگ کے مطابق روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں اور عالمی سطح پر معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ مستحکم اور معزز روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔
انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) سیاحت کے شعبے میں تیزی سے اپنا اثر ڈال رہی ہے۔ وزیر نے کہا کہ اگرچہ AI بلا شبہ آگئی ہے اور یہ آپریشنل کارکردگی، ڈیٹا مینجمنٹ اور عملدرآمد میں سہولت فراہم کرے گی، مگر یہ کبھی بھی انسانی رابطے کی اہمیت کو مکمل طور پر نہیں بدل سکتی۔ مہمان نوازی، گائیڈڈ ٹورز، کسٹمر سروس اور تجرباتی سیاحت جیسے شعبے ایسے ہیں جہاں ذاتی تعلقات، ہمدردی اور انسانی تعامل لازمی ہیں۔ الخطیب نے کہا کہ مستقبل کی سیاحت میں ٹیکنالوجی اور انسانی مہارت کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہوگا تاکہ سہولت اور ذاتی رابطے دونوں کو برقرار رکھا جا سکے۔
وزیر نے سیاحت کے شعبے میں شمولیتی مواقع کی بھی وضاحت کی اور کہا کہ یہ شعبہ خواتین اور نوجوانوں کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہے۔ دنیا بھر میں سیاحت کے 40 فیصد مواقع خواتین کے لیے اور *30 فیصد نوجوانوں کے لیے دستیاب ہیں۔ اس سے یہ شعبہ *صنفی مساوات اور نوجوانوں کے روزگار کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے حکومتوں اور نجی شعبے سے اپیل کی کہ وہ تربیتی پروگرام، رہنمائی کے مواقع اور کیریئر کی راہیں فراہم کریں تاکہ خواتین اور نوجوان مستحکم، معزز اور پائیدار روزگار حاصل کر سکیں۔
الخطیب نے خاص طور پر چھوٹے ممالک، جزائر اور ترقی پذیر خطوں پر زور دیا، جن میں افریقہ، لاطینی امریکہ، کیریبین اور پیسفک کے جزائر شامل ہیں، تاکہ یہ خطے بھی عالمی سیاحت کی ترقی سے حقیقی فائدہ اٹھا سکیں اور وہاں کے عوام کے لیے معزز اور پائیدار معاشی مواقع فراہم ہوں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ملازمتوں کا تحفظ، ہنر کی ترقی اور شراکت داری کے مواقع پیدا کرنا اس شعبے کی پائیداری کے لیے ضروری ہیں۔
وزیر نے مزید کہا کہ عالمی سیاحت میں استحکام اور لچک بہت اہم ہیں۔ انہوں نے صلاحیت بڑھانے کے پروگرامز، مہارت کی تربیت، اور جدید کاروباری ماڈلز کی ضرورت پر زور دیا تاکہ یہ شعبہ عالمی اقتصادی اتار چڑھاؤ، ماحولیاتی تبدیلیوں اور بدلتی ہوئی سیاحتی ترجیحات کے باوجود مستحکم رہ سکے۔ ان کے مطابق، انسانی ہنر، جدید ٹیکنالوجی اور حکمت عملی کا امتزاج ہی عالمی سیاحت کو پائیدار ترقی اور معاشی استحکام فراہم کرے گا۔
الخطیب نے کہا کہ سیاحت صرف معاشی سرگرمی نہیں بلکہ یہ ثقافتی تبادلے، سماجی شمولیت اور بین الاقوامی تعاون کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انسانی روابط پر مبنی پالیسیاں، خواتین اور نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا، اور کمزور خطوں میں شراکت داری یقینی بنائی جائے تاکہ عالمی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور کمیونٹیز مستحکم ہو سکیں۔
آخر میں، احمد الخاطیب نے دنیا بھر کے وزرا، پالیسی سازوں اور صنعت کے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ مشترکہ اقدامات، جدید حل اور حکمت عملی پر مبنی سرمایہ کاری کے ذریعے سیاحت کے شعبے کو نہ صرف ترقی کی راہ پر گامزن رکھیں بلکہ اسے شمولیتی، انسانی بنیادوں پر قائم اور پائیدار بھی بنایا جائے، تاکہ آنے والی دہائیوں میں یہ شعبہ عالمی سطح پر معیشت اور سماج میں مثبت کردار ادا کر سکے۔
TOURISE سمٹ 2025 نہ صرف تکنیکی جدت اور AI کے اثرات پر بات چیت کا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے بلکہ یہ اس بات پر بھی روشنی ڈالتا ہے کہ سیاحت کس طرح انسانی ترقی، سماجی شمولیت اور اقتصادی استحکام کے لیے ایک طاقتور ذریعہ بن سکتی ہے۔ احمد الخاطیب کی تقریر اس بات کا عملی پیغام دیتی ہے کہ اگر تمام ملک، صنعت اور بین الاقوامی شراکت دار مشترکہ حکمت عملی، جدت پسندی اور انسانی مراعات کے اصول اپنائیں تو سیاحت آنے والے برسوں میں دنیا بھر میں مستحکم، منصفانہ اور شمولیتی روزگار کے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔
