سعودی عرب اور بنگلہ دیش کے درمیان ہونے والا نیا لیبر معاہدہ دراصل دونوں ممالک کے تعلقات کے ایک نئے دور کی بنیاد ہے — ایک ایسا دور جو صرف افرادی قوت کی منتقلی تک محدود نہیں بلکہ معاشی تعاون، انسانی فلاح اور ترقیاتی شراکت داری کے دروازے بھی کھولتا ہے۔
ڈھاکہ میں سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر عبداللہ الظفر اور بنگلہ دیش کے اعلیٰ حکام کی موجودگی میں دستخط کیے گئے اس معاہدے نے دونوں ممالک کی معیشتوں کو مزید قریب کر دیا ہے۔
یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب تیزی سے اپنے Vision 2030 کے تحت بڑے ترقیاتی، سیاحتی اور انفراسٹرکچر منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ریاض، جدہ، اور بحیرہ احمر کے کنارے پر بننے والے نیوم سٹی جیسے میگا پروجیکٹس میں لاکھوں نئے ملازمین کی ضرورت متوقع ہے۔ اس پس منظر میں، بنگلہ دیشی کارکنوں کو نہ صرف تعمیراتی شعبے بلکہ صحت عامہ، ٹیکنیکل سروسز، سیاحت، ہاسپٹیلٹی، اور انجینئرنگ کے شعبوں میں بھی روزگار فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
سعودی سفیر کے مطابق، آئندہ چند مہینوں میں تقریباً تین لاکھ بنگلہ دیشی کارکنوں کو مختلف منصوبوں میں ملازمت دی جائے گی، جبکہ اس وقت تقریباً 36 لاکھ بنگلہ دیشی شہری پہلے ہی سعودی عرب میں مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ یہ کارکن ہر سال اپنے وطن بھیجے جانے والی ترسیلات زر کے ذریعے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم بنگلہ دیشی معیشت میں شامل کرتے ہیں — جو ملک کے زرِمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سعودی عرب 1970 کی دہائی سے بنگلہ دیشی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی منزل رہا ہے۔ بنگلہ دیشی کارکنوں نے تعمیرات، مینوفیکچرنگ، اور سروسز کے شعبوں میں اپنی محنت اور ذمہ داری سے سعودی مارکیٹ میں ایک مثبت شناخت قائم کی ہے۔ نئے معاہدے کے ذریعے اس تعاون کو ادارتی اور قانونی فریم ورک کے اندر لا کر مزید شفاف اور منظم بنایا جا رہا ہے۔
ڈھاکہ میں سعودی سفیر نے وضاحت کی کہ نئے معاہدے کے تحت کارکنوں کی بھرتی کے دوران تمام معاہدے دستاویزی (Documented Contracts) کی صورت میں کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی بدعنوانی، تاخیر یا تنازعے کی گنجائش باقی نہ رہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سعودی حکومت کی جانب سے ایک خصوصی مانیٹرنگ سسٹم تیار کیا جا رہا ہے جو اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ہر کارکن کو وقت پر تنخواہ ملے اور ان کے ساتھ طے شدہ شرائط کے مطابق برتاؤ ہو۔
مزید یہ کہ، سعودی عرب جانے والے تمام بنگلہ دیشی کارکنوں کے لیے روانگی سے قبل ایک پری ڈپارچر اوریئنٹیشن پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام میں انہیں سعودی قوانین، ثقافت، سماجی آداب، اور کام کے حالات سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ نہ صرف بہتر طریقے سے کام کر سکیں بلکہ وہاں کے معاشرتی نظام میں باآسانی گھل مل جائیں۔
یہ اقدام اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ 2027 میں سعودی عرب ایشین فٹبال چیمپئن شپ کی میزبانی کرے گا، 2030 میں عالمی نمائش (World Expo) کا انعقاد کرے گا، اور 2034 میں فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے تیاری کر رہا ہے۔ ان بڑے بین الاقوامی ایونٹس کے لیے نئے اسٹیڈیمز، ہوٹلز، ٹرانسپورٹ سسٹمز، اور انفراسٹرکچر درکار ہے — جن کی تعمیر و انتظام میں لاکھوں کارکنان درکار ہوں گے۔
دونوں حکومتوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ صرف افرادی قوت ہی نہیں بلکہ تعلیمی و تکنیکی تعاون کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ سعودی سفیر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیشی طلبہ کی بڑی تعداد سعودی عرب کی معروف یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرے تاکہ مستقبل میں وہ ملک کے ترقیاتی منصوبوں میں قائدانہ کردار ادا کر سکیں۔
یہ معاہدہ بنگلہ دیشی حکومت کے لیے بھی ایک بڑی کامیابی ہے کیونکہ یہ بیرون ملک روزگار کے ذریعے معاشی استحکام کے ایجنڈے کو تقویت دیتا ہے۔ بنگلہ دیشی وزارتِ محنت کے مطابق، اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2026 کے اختتام تک ڈھائی سے تین لاکھ مزید کارکن سعودی عرب روانہ ہوں گے۔
لیکن اس تعاون کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی ہیں — مثلاً غیر قانونی ایجنسیوں کی سرگرمیاں، جعلی معاہدے، یا کم تنخواہوں کے معاملات — جنہیں روکنے کے لیے دونوں ممالک نے ایک جوائنٹ ٹاسک فورس کے قیام پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس فورس کا مقصد بھرتی کے عمل میں شفافیت لانا، مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنا، اور ان کی شکایات کا فوری حل یقینی بنانا ہوگا۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ معاہدہ محض مزدوروں کی بھرتی کا معاہدہ نہیں بلکہ دو مسلم ممالک کے درمیان اقتصادی اور انسانی شراکت داری کی ایک نئی بنیاد ہے۔ یہ اقدام نہ صرف Vision 2030 کے اہداف کو تقویت دے گا بلکہ جنوبی ایشیا کے لاکھوں گھرانوں کے لیے امید اور خوشحالی کی نئی راہیں بھی کھولے گا۔
