ریاض:وزیرِ ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان کی سرپرستی میں ریاض کی شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی میں منعقدہ سعودی انٹرنیشنل ہینڈی کرافٹس ویک (بَنّان) کے تیسرے ایڈیشن کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جو ’ہنڈی کرافٹس کے سال 2025‘ کی مرکزی سرگرمیوں میں سے ایک ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والا یہ ثقافتی پروگرام مقامی اور بین الاقوامی دستکاری کے شعبے کو اجاگر کرنے، کاریگروں کو معاشی و فنی طور پر مضبوط کرنے اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے طویل مدتی مقاصد کا عملی اظہار ہے۔
منتظمین کے مطابق اس سال کے ایونٹ میں 40 ممالک سے 400 سے زائد مرد و خواتین ہنر مند شریک ہیں جنہوں نے اپنی مخصوص انواعِ ہنر، کاریگری کے طریقے اور معیاری مصنوعات خصوصی پویلینز اور نمائش گاہوں میں پیش کیں۔ اس ایڈیشن کا مہمانِ خصوصی چین ہے، جس نے ایک منفرد اور بھرپور پویلین تیار کیا ہے جہاں چین کے روایتی اور جدید فنونِ دستی کو نمائش کے ذریعے عالمی ناظرین کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ چینی پویلین کی شرکت دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعاون اور اسٹریٹجک شراکت کی مضبوطی کی عکاس ہے۔
بَنّان کا بنیادی مقصد روایتی ہنر کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق فروغ دینا، سعودی کاریگروں کو بین الاقوامی مارکیٹس تک رسائی دلوانا، اور تخلیقی معیشت (creative economy) کو مضبوط کرنا ہے۔ نمائش میں شامل سرگرمیوں میں خصوصی ورکشاپس، لائیو ڈیموسٹریشنز، کاریگروں کے لیے تربیتی نشستیں، بزنس ٹو بزنس میٹنگز، اور بین الاقوامی خریداروں و ڈیلرز کے ساتھ نیٹ ورکنگ کا مواقع شامل ہیں۔ اس کے علاوہ روایتی تکنیکوں کی دستاویزی نمائش، نوادرات کی پیشکش اور جدید ڈیزائن کے ساتھ روایتی فنون کے امتزاج کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
ہیریٹج کمیشن اور منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ ایونٹ محض ثقافتی نمائش نہیں بلکہ مقامی کاریگروں کے لیے روزگار، برآمدی مواقع اور تجارتی روابط پیدا کرنے کا شاندار موقع ہے۔ نمائش کے ذریعے کاریگر اپنی مصنوعات کو بین الاقوامی خریداروں کے سامنے رکھ سکتے ہیں، ممکنہ طور پر لائسنسنگ، مشترکہ پروجیکٹس اور براہِ راست برآمدات کے معاہدے بھی طے پا سکتے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات سعودی عرب کی تنوعِ معیشت اور کریئیٹو سیکٹر کی ترقی میں معاون ثابت ہوں گے۔
چین کی مهمانِ خصوصی حیثیت اور متعدد ممالک کی شمولیت بین الاقوامی ثقافتی تبادلے کی علامت ہے۔ ماہرینِ ثقافت کے نزدیک بَنّان جیسی تقاریب ثقافتی سفارتکاری (cultural diplomacy) کو تقویت دیتی ہیں اور ممالک کے درمیان عوامی سطح پر مثبت روابط قائم کرنے میں مددگار ہوتی ہیں۔ اس طرح کے پروگرام دونوں طرف کے فنکاروں اور ڈیزائنرز کو نئے خیالات اور تکنیکوں کے تبادلے کا موقع فراہم کرتے ہیں، جو تخلیقی صنعتوں کی جدت اور معیار کو بلند کرتا ہے۔
نمائش کا ایک کلیدی پہلو روایتی تکنیکوں کی دستاویزی حفاظت اور ان کو جدید تناظر میں پیش کرنا ہے۔ بَنّان میں پیش کی جانے والی مصنوعات میں سعودی روایتی ملبوسات، نقش و نگار، ہاتھ سے بنے زیورات، خورد و نوش کے روایتی برتن، ٹیکسٹائل اور جدید فنونِ دستی کا امتزاج شامل ہے۔ منتظمین نے واضح کیا کہ اس پروگرام کی کوشش ہے کہ نوجوان نسل کو روایتی ہنر سکھانے کے ساتھ انہیں تجارتی مہارت بھی دی جائے تاکہ یہ فنون زندگی کا ذریعہ بن سکیں۔
ثقافتی اور اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قسم کے بین الاقوامی ایونٹس مقامی تخلیقی اکو سسٹم کو مستحکم کرتے ہیں، روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں اور سیاحت کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ بَنّان جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے سعودی ہنرمند اپنی شناخت عالمی سطح پر بنا سکتے ہیں اور ملک کی مجموعی برآمدات میںقدرے اضافے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
سعودی انٹرنیشنل ہینڈی کرافٹس ویک (بَنّان) کا یہ تیسرا ایڈیشن نہ صرف مملکت کی ثقافتی شناخت کو پروان چڑھانے کا ذریعہ ہے بلکہ یہ ایک عملی حکمتِ عملی بھی ہے جس کے ذریعے روایتی ہنر کو جدید منڈیوں کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ چین کی شمولیت اور 40 ممالک کے وسیع نیٹ ورک کے باعث یہ نمائش بین الاقوامی ثقافتی روابط اور مقامی کاریگروں کی معاشی تقویت کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
