مشترکہ بحری مشق “ریڈ ویو 8” اپنی تکمیل کو پہنچی تو جدہ میں واقع کنگ فیصل نیول بیس کا ماحول ایک بڑے علاقائی عسکری اجتماع میں بدل چکا تھا۔ مغربی بیڑے کے اس اہم اڈے پر ہونے والی اختتامی تقریب میں سعودی عرب اور شریک ممالک کی سینئر عسکری قیادت کی نمایاں موجودگی نے یہ واضح کر دیا کہ یہ مشق محض ایک روٹین ٹریننگ نہیں تھی بلکہ خطے کی بحری سلامتی کے لیے ایک وسیع تر مشترکہ وژن کا حصہ تھی۔ شاہی سعودی بحریہ کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد الغریبی اور بارڈر گارڈ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل شایع الوادعی سمیت اعلیٰ افسران کی شرکت نے اس بات پر مہر ثبت کر دی کہ سعودی ریاست اس خطے کے امنِ سمندر کو کس قدر اہمیت دیتی ہے۔
اس سال ریڈ ویو کا دائرہ پہلے کی نسبت کہیں زیادہ وسیع تھا۔ اگرچہ مشق کی میزبانی شاہی سعودی بحریہ نے کی، مگر اس میں صرف نیول فورسز ہی شامل نہیں تھیں۔ سعودی بری اور فضائی افواج نے بھی عملی طور پر حصہ لیا، جبکہ وزارتِ داخلہ کے بارڈر گارڈ یونٹس نے ساحلی اور سمندری حفاظتی کارروائیوں میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ریڈ سی کے کنارے واقع اہم ممالک — مصر، اردن، جبوتی، سوڈان اور یمن — نے بھی اپنے بحری دستے بھیجے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ بحیرۂ احمر میں امن اور استحکام اب ایک مشترکہ ذمہ داری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ صرف انفرادی قومی مفاد کے طور پر۔
مشق کے دوران بحری جہازوں، ہیلی کاپٹروں، خصوصی یونٹس اور ماہرین نے کئی جہتی عملی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ جدید سینسرز اور اینٹی سب میرین نظاموں کے ذریعے پانی کے اندر پوشیدہ خطرات کی تلاش اور ان کے خلاف کارروائیوں کی مشق کی گئی۔ الیکٹرانک وارفیئر ٹیموں نے دشمن سگنلز میں رخنہ ڈالنے اور اپنے نظام کو محفوظ رکھنے کی تربیت حاصل کی، جبکہ فضائی اور سطحی دفاعی یونٹس نے اچانک ظاہر ہونے والے اہداف پر برق رفتاری سے ردعمل دینے کی بھرپور مشق کی۔ لائیو فائرنگ کے ذریعے سمندری اور فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کی تربیت نے شریک اہلکاروں کو حقیقی جنگ جیسے ماحول سے روشناس کرایا۔
سمندر تک محدود نہ رہتے ہوئے یہ مشق ساحلی اور زمینی میدانوں میں بھی پھیلی۔ امفیبیئس لینڈنگ یونٹس نے فرضی دشمن نگرانی کے دوران ساحلی علاقوں پر کامیاب اترنے کی حکمت عملیوں کا عملی مظاہرہ کیا۔ شہری بستیوں سے ملتے جلتے تربیتی مقامات پر قریبی جنگ یعنی اربن کامبیٹ کے سینیریوز ترتیب دیے گئے جہاں مختلف ملکوں کے سپاہی ایک ہی ٹیم کی حیثیت سے آگے بڑھتے رہے۔ ساحلی دفاع کے یونٹس نے حساس علاقوں کی حفاظت اور دشمن کے ممکنہ حملوں کو ناکام بنانے کی مشقیں کیں۔ اسپیشل فورسز نے ریڈ سی ساحلوں کے نقشوں پر مبنی کارروائیوں کے ذریعے دشمن کی پناہ گاہوں پر چھاپوں، اہداف کی نشاندہی، یرغمالیوں کی رہائی اور دہشت گرد گروہوں پر اچانک حملوں جیسے پیچیدہ مناظر پر مہارت حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ بارودی سرنگیں صاف کرنے اور بغیر پھٹے ہوئے دھماکہ خیز مواد کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنانے کی خصوصی تربیت بھی دی گئی، جو عالمی بحری تجارت کے محفوظ بہاؤ کے لیے نہایت اہم ہے۔
فضائی محاذ پر بھی مشق پوری طرح فعال رہی۔ نیول ایوی ایشن کے MH-60R ہیلی کاپٹرز نے سمندر میں موجود اہداف پر براہِ راست فائرنگ کر کے اپنی توانائی اور چستی کا عملی ثبوت دیا۔ زمینی عملے نے بھی چھوٹے اور درمیانے ہتھیاروں کے ساتھ فائرنگ کی مشقیں کیں، جس نے مجموعی طور پر تمام فورسز کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط کیا۔ اس طرح نہ صرف ہر ملک کے سپاہی ایک دوسرے کے طریقۂ کار سے واقف ہوئے بلکہ مشترکہ آپریشن کی صلاحیت بھی کئی گنا بڑھ گئی۔
مشق کے ڈائریکٹر ریئر ایڈمرل عبد اللہ الانزی نے مشق کے نتائج کو نہایت مثبت قرار دیا۔ ان کے مطابق ریڈ ویو 8 نے شریک ممالک کی دفاعی تیاری کو صرف مضبوط نہیں کیا بلکہ غیر روایتی اور بدلتے ہوئے سمندری خطرات کا مقابلہ کرنے کی مشترکہ اہلیت میں بھی نمایاں اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان مشقوں کے ذریعے انٹیلی جنس کے تبادلے، معلومات کی بروقت فراہمی اور سیکورٹی کوآرڈینیشن میں وہ مضبوطی پیدا ہوئی ہے جو خطے کی بحری سلامتی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اس تربیتی سلسلے نے مختلف ملکوں کے عسکری نظریات کو ایک دوسرے کے قریب لایا، جس سے مشترکہ کارروائیوں میں یکسانیت اور رفتار پیدا ہوئی اور تمام فورسز عملی جنگی ماحول سے نمٹنے کے لیے زیادہ تیار ہو گئیں۔
بڑی سطح پر دیکھا جائے تو اس مشق کی اہمیت محض عسکری نہیں بلکہ معاشی اور جغرافیائی بھی ہے۔ بحیرۂ احمر دنیا کی سب سے مصروف سمندری گزر گاہوں میں شامل ہے، جس سے گزرنے والا تجارتی بیڑا عالمی مارکیٹوں کا پہیہ گھماتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی قسم کی بدامنی، اسمگلنگ، دہشت گردی یا علاقائی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر پر اثر ڈال سکتی ہے۔ ریڈ ویو جیسی مشقیں اس حقیقت کا عملی اظہار ہیں کہ ساحلی ممالک اپنی اجتماعی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اس اہم راستے کو محفوظ رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
بالآخر ریڈ ویو 8 نے یہ ثابت کیا کہ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے سنگم پر واقع یہ خطہ اپنے سمندری مستقبل کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ یکجا، باخبر اور متحرک ہو چکا ہے۔ مشترکہ تربیت، ہم آہنگ حکمت عملیوں، جدید ہتھیاروں کے تجربات اور مشترکہ عزم نے اس مشق کو ایک ایسے پلیٹ فارم میں بدل دیا ہے جہاں سے نہ صرف دفاعی تعاون مضبوط ہوتا ہے بلکہ علاقائی اعتماد اور مشترکہ سلامتی کا نیا باب بھی کھلتا ہے۔
