سعودی عرب میں صحت کے شعبے میں فلاحی سرگرمیوں کو مضبوط بنانے کے لیے جاری انسان دوست کوششوں میں ایک اہم قدم اس وقت سامنے آیا جب شہزادی سارہ بنتِ مشهور بن عبدالعزیز نے ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا بچوں کے لیے مختص امدادی فنڈ کی معاونت میں 10 ملین ریال کا بڑا عطیہ دیا۔ یہ اقدام نہ صرف مالی مدد ہے بلکہ ان خاندانوں کے لیے ایک امید کی کرن بھی ہے جو بچوں کی طویل اور پیچیدہ بیماری کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس عطیے کے ذریعے ایک ایسے طبقے کو سہارا ملا ہے جو روزمرہ کے اخراجات اور علاج کے بڑھتے بوجھ کے باعث نفسیاتی و معاشی دباؤ کا شکار رہتا ہے۔
اس فنڈ کی دیکھ بھال ہیلتھ انڈوومنٹ فنڈ کرتا ہے، جو مملکت میں صحت سے متعلق وعدوں کو پائیدار بنانے اور طبّی سہولیات کو ضرورت مند لوگوں تک پہنچانے کے لیے طویل عرصے سے سرگرم ہے۔ شہزادی سارہ کے اس عطیے نے نہ صرف فنڈ کے ممکنہ منصوبوں کا دائرہ وسیع کیا ہے بلکہ جدید ترین علاج تک رسائی کو بھی ممکن بنایا ہے۔ ٹائپ ون ذیابیطس ایسے بچوں کو مسلسل دیکھ بھال، باقاعدہ انسولین، جدید علاج اور مسلسل مانیٹرنگ کی ضرورت ہوتی ہے—جن چیزوں تک بہت سے خاندان آسانی سے رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔ اس تعاون کے نتیجے میں یہ بچے اب زیادہ محفوظ، منظم اور پُراعتماد انداز میں اپنی زندگی گزار سکیں گے۔
اس اعلان کے بعد وزیرِ صحت اور ہیلتھ انڈوومنٹ فنڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین فہد الجلاجل نے اس اقدام کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس عطیے سے صحت کی خدمات میں بڑی بہتری آئے گی اور یہ بچوں کے علاج کے معیار کو ایک نئی سطح تک لے جانے کا سبب بنے گا۔ انہوں نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ سماجی شراکت داری اور غیر منافع بخش اداروں کے ساتھ تعاون ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے معاشرے کے کمزور طبقوں تک حقیقی فلاح پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ تمام کاوشیں مملکت کے صحت کے شعبے میں اصلاحات، معیارِ زندگی کی بہتری اور پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
ہیلتھ انڈوومنٹ فنڈ نے مزید بتایا کہ اس عطیے کی بدولت بچوں کو جدید ترین انسولین پمپس فراہم کیے جائیں گے، جو عالمی سطح پر جدید اور محفوظ علاج کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ پمپس بچوں کو خون میں شوگر کی سطح کے اتار چڑھاؤ سے بہتر طور پر نمٹنے میں مدد دیتے ہیں اور روایتی انجیکشنز کے مقابلے میں زیادہ کارآمد اور سہل ہیں۔ اس سے نہ صرف ان کی صحت برقرار رہتی ہے بلکہ والدین کے خدشات اور روزمرہ کی ذمہ داریوں میں بھی نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔ ایسے آلات ان بچوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ اپنی بیماری کے ساتھ زندگی کو مزید بہتر اور منظم طریقے سے گزار سکتے ہیں۔
یہ فنڈ دراصل ان مستقل کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد ان طبّی ضروریات کو پورا کرنا ہے جو اکثر کم آمدنی والے خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہوتی ہیں۔ ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا بچوں کے لیے تشکیل دیا گیا خصوصی پروگرام بیداری مہم، علاج کی سہولت، جدید آلات کی فراہمی اور تکنیکی تربیت جیسے اقدامات پر مشتمل ہے۔ اس فنڈ نے ملک کے مختلف علاقوں میں 3,000 سے زیادہ مستحق بچوں تک اپنی خدمات پہنچائیں اور یہ کام 26 ایسوسی ایشنز اور 26 منصوبوں کی مدد سے انجام دیا گیا۔ گزشتہ برس ہی اس فنڈ نے مجموعی طور پر 72 ملین ریال سے زیادہ کے عطیات تقسیم کیے تھے، جس سے اس کے دائرۂ کار اور اثر پذیری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اس طرح شہزادی سارہ بنتِ مشهور کا یہ عطیہ صرف ایک مالی تعاون نہیں بلکہ ایک مضبوط سماجی پیغام بھی ہے—کہ صحت سب کا بنیادی حق ہے اور معاشرے کے سب سے کمزور افراد بھی جدید ترین علاج کے مستحق ہیں۔ یہ عمل اس بات کی بھی علامت ہے کہ سعودی عرب میں فلاحی خدمات کو صرف حکومتی ذمہ داری نہیں سمجھا جاتا بلکہ معاشرے کے بااثر اور صاحبِ حیثیت افراد بھی اس سفر میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ نتیجتاً، ایسے اقدامات نہ صرف متاثرہ خاندانوں کا بوجھ کم کرتے ہیں بلکہ معاشرتی ہمدردی، یکجہتی اور مشترکہ ترقی کے تصور کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔
