وزیرِ بلدیات و رہائش ماجد الحقیل نے آج ریاض میں سٹی اسکیپ گلوبل 2025 کا افتتاح ایک نہایت اہم اور پُروقار تقریب میں کیا، جس میں دنیا بھر سے سرمایہ کاروں، ماہرِ تعمیرات، عالمی ڈیویلپرز، مالیاتی اداروں اور اربن پلاننگ کے ماہرین نے شرکت کی۔ اس سال کا موضوع "مستقبل کی شہری زندگی” رکھا گیا ہے، جو نہ صرف اس نمائش کے وژن کو ظاہر کرتا ہے بلکہ سعودی عرب کے اُن وسیع منصوبوں کی بھی عکاسی کرتا ہے جو نئی طرز کی شہری زندگی کو متعارف کرانے کے لیے تیزی سے عملی شکل اختیار کر رہے ہیں۔
اپنی گفتگو کے آغاز میں الحقیل نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ قیادت کی مسلسل سرپرستی اور پالیسی سطح پر دی جانے والی رہنمائی نے رہائشی، بلدیاتی اور تعمیراتی شعبے کو ایسی رفتار دی ہے جو خطے میں اپنی مثال آپ ہے۔ ان کے مطابق، وژن 2030 نے مملکت میں ایسے حالات پیدا کیے ہیں جن کی بدولت بڑے بڑے شہری منصوبے، ڈیجیٹل خدمات، جدید رہائشی بستیاں اور عالمی معیار کے ترقیاتی منصوبے ایک حقیقت بن رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سٹی اسکیپ گلوبل اب محض ایک نمائش نہیں رہی بلکہ ایک عالمی معیار کا پلیٹ فارم بن چکی ہے جہاں سعودی عرب اپنی بدلتی ہوئی شہری شناخت اور معاشی ترقی کا عملی مظاہرہ دنیا کے سامنے رکھتا ہے۔ یہ تقریب سرمایہ کاروں اور ڈیویلپرز کے لیے ایسے مواقع فراہم کرتی ہے جن کے ذریعے ٹیکنالوجی پر مبنی اسمارٹ شہروں، مربوط رہائشی منصوبوں اور انسان دوست کمیونٹیز کی ترقی کے نئے راستے کھل رہے ہیں۔
وزیر نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ سعودی عرب کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر ایک بڑے تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی اور بین الاقوامی ڈیویلپرز اب صرف تعمیرات تک محدود نہیں رہے بلکہ منصوبہ بندی، ماحول دوست ترقی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مربوط شہری زندگی جیسے نئے پہلو اُن کے کام کا لازمی حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مملکت کے پانچ بڑے شہروں میں 2030 تک ڈیڑھ ملین سے زائد نئے گھروں کی ضرورت ہوگی، جن میں سے صرف ریاض میں 731,000 یونٹس درکار ہوں گے۔ یہ اعداد و شمار سعودی عرب کو خطے کی سب سے بڑی شہری ترقیاتی مارکیٹ ثابت کرتے ہیں۔
الحقیل نے کہا کہ نمائش کے ابتدائی دو دنوں کے دوران 161.2 بلین سعودی ریال سے زائد کی رئیل اسٹیٹ ڈیلز طے ہونے کا امکان ہے، جو نہ صرف مارکیٹ کی مضبوطی کا ثبوت ہے بلکہ سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی بھی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نمائش کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ مزید معاہدوں کی توقع ہے، جو اس سیکٹر کی بہترین کارکردگی کی نشاندہی کرتا ہے۔
ٹیکنالوجی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا رئیل اسٹیٹ شعبہ اب پوری طرح ڈیجیٹل ماڈل کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔ پراپ ٹیک، مصنوعی ذہانت، جدید تعمیراتی تکنیک، اور منصوبوں کی منصوبہ بندی میں آگیومینٹڈ ریئلٹی جیسے آلات استعمال کیے جا رہے ہیں، جس سے منصوبے زیادہ درست، تیز رفتار اور پائیدار بن رہے ہیں۔
انہوں نے ایک اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ مملکت نے پہلی بار رئیل اسٹیٹ ٹائٹل ڈیڈ کی ٹوکنائزیشن مکمل کر لی ہے، اور سعودی عرب اُن اولین ممالک میں شمار ہونے لگا ہے جو زمین اور جائیداد کے ریکارڈ کو براہِ راست بلاک چین پر منتقل کرنے کے لیے عالمی معیار کی ڈیجیٹل بنیادیں قائم کر رہے ہیں۔ اس عمل سے سرمایہ کاری میں شفافیت بڑھے گی اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے نئے دروازے کھلیں گے۔
آخر میں الحقیل نے کہا کہ سٹی اسکیپ گلوبل 2025 مملکت کے اس بڑے مقصد کو ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب مستقبل کے اسمارٹ شہروں، جدید شہری معیشت اور پائیدار ترقی کی عالمی مثال بننے کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نمائش ملک کے تمام اہم اسٹیک ہولڈرز کو ایک جگہ اکٹھا کرتی ہے تاکہ وہ مل کر ایسے نئے مواقع تلاش کریں جو آنے والے برسوں میں سعودی عرب کی شہری اور معاشی ترقی کی سمت متعین کریں گے۔
