امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرتے ہوئے امریکی ساختہ ایف۔35 فائٹر جیٹس فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان واشنگٹن کے دورے پر پہنچنے والے ہیں، جس سے اس فیصلے کی سفارتی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے۔
اگر یہ معاہدہ مکمل ہو جاتا ہے تو سعودی عرب اُن چند منتخب ممالک میں شامل ہو جائے گا جو پہلے ہی ایف۔35 جیسے جدید ترین لڑاکا طیارے چلا رہے ہیں۔ دنیا کے کئی طاقتور ممالک—جاپان، جنوبی کوریا، اٹلی، جرمنی، فن لینڈ، بیلجیم، برطانیہ، نیدرلینڈز، آسٹریلیا، ناروے، ڈنمارک، یونان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، پولینڈ اور دیگر—اس طیارے کو اپنی طویل المدتی دفاعی حکمتِ عملی میں شامل کر چکے ہیں۔ سعودی عرب کا 21واں آپریٹر بننا اس کے دفاعی ڈھانچے میں ایک بڑا اضافہ ہوگا۔
ایف۔35 پروگرام، جسے لاک ہیڈ مارٹن نے تیار کیا ہے، جدید فضائی جنگ کا ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ اس طیارے کی خصوصیت صرف اس کی اسٹیلتھ یعنی کم ظاہر ہونے والی ساخت نہیں، بلکہ اس کے جدید سینسرز، ہدف کا پتہ لگانے والے نظام، اور میدانِ جنگ کی معلومات کو یکجا کرنے والی صلاحیتیں بھی ہیں۔ اس کا ڈیزائن اسے ریڈار پر نمایاں ہونے سے بچاتا ہے، جس کے باعث یہ اُن فضائی حدود میں بھی کارروائی کر سکتا ہے جہاں دفاعی نظام بہت مضبوط ہو۔
اس کے جدید سینسرز جیسے AESA ریڈار، ڈسٹری بیوٹڈ اپرچر سسٹم اور ایلیکٹرو آپٹیکل ٹارگٹنگ سسٹم مسلسل معلومات اکٹھی کر کے پائلٹ کو ایک واضح اور مکمل صورتِ حال فراہم کرتے ہیں، جس سے فیصلہ سازی تیز اور مؤثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایف۔35 میں جدید الیکٹرانک وارفیئر کے فیچرز موجود ہیں جو دشمن کے ریڈار کو جام کر سکتے ہیں، نیٹ ورکس کو متاثر کر سکتے ہیں، اور الیکٹرانک حملے کر سکتے ہیں—ساتھ ہی یہ اپنی حفاظت بھی برقرار رکھتا ہے اور اتحادی طیاروں کو بھی معاونت فراہم کرتا ہے۔
سعودی عرب کے لیے یہ طیارہ اُس کے موجودہ بیڑے—جس میں ایف۔15 ایس اے، یورو فائٹر ٹائیفون اور پرانے ٹورنیڈو شامل ہیں—سے ایک نمایاں اپ گریڈ ہوگا۔ ایف۔35 کی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، وسیع سینسر رینج اور جدید ڈیٹا شیئرنگ صلاحیتیں سعودی فضائیہ کو ایک بہتر اور مستقبل سے ہم آہنگ آپریشنل برتری فراہم کریں گی۔
امریکہ عام طور پر ایف۔35 کی رسائی صرف اپنے انتہائی قریبی اتحادیوں کو دیتا ہے، اس لیے سعودی عرب کے لیے اس کی منظوری کو واشنگٹن کی جانب سے ایک مضبوط اعتماد اور اسٹریٹیجک تعاون کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف سعودی دفاع کو مضبوط بنائے گا بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے سیکیورٹی ماحول پر بھی طویل المدتی اثرات ڈال سکتا ہے۔
