سعودی عرب میں فلم سازی کا منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے، اور اس تبدیلی کے پیچھے وہ نئی نسل ہے جو کچھ سال پہلے فلم کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ گئی تھی اور اب مکمل مہارت، وسیع نظریات اور مضبوط ثقافتی شعور کے ساتھ واپس لوٹ رہی ہے۔ ابتدا میں بیرون ملک فلم پڑھنے والے نوجوانوں کی تعداد بہت کم تھی، لیکن وقت کے ساتھ یہ چھوٹا سا رجحان ایک مضبوط تخلیقی تحریک میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اب یہ نوجوان صرف فلم نہیں بنانا چاہتے بلکہ ایک ایسی صنعت تعمیر کرنا چاہتے ہیں جو اپنی جڑوں میں سعودی ہو مگر اپنی پہنچ میں عالمی ہو۔
انہی میں سے ایک نام ناصر مرغلانی کا ہے، جو ہونولولو میں یونیورسٹی آف ہوائی میں فلم اور تخلیقی میڈیا کی تعلیم حاصل کرنے گئے تھے۔ وہاں گزارے گئے سال ان کے لیے محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھے، بلکہ ایک مکمل تربیتی دور تھا جس نے انہیں کہانی سنانے کی تکنیک، فلم کے بہاؤ، روشنی کے استعمال اور کرداروں کی تعمیر کا گہرا فہم دیا۔ انہیں ٹی وی سیریز "لاسٹ” کے سیٹ پر کام کرنے کا موقع بھی ملا، جہاں انہوں نے بین الاقوامی ٹیم کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ حاصل کیا۔ ناصر کہتے ہیں کہ انہوں نے وہاں جانا کہ کہانی صرف منظر دکھانے کا نام نہیں بلکہ جذبات، ساخت اور تال کا کھیل ہے۔
ان کی 2008 میں بنائی گئی مختصر فلم "جسٹ لائک دیٹ” نہ صرف مقامی سطح پر مقبول ہوئی بلکہ ہانگ کانگ اور ہاوائی کے فلم فیسٹیولز میں بھی منتخب کی گئی۔ یہ ان کا پہلا قدم تھا جس نے ثابت کیا کہ سعودی معاشرتی تجربات اور جذبات پر مبنی کہانیاں دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچ سکتی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ مختلف قومیتوں کے لوگوں کے ساتھ کام کرنے سے انہیں اندازہ ہوا کہ انسانی جذبات کی زبان ہر جگہ ایک جیسی ہوتی ہے، چاہے ماحول مختلف ہو۔
ناصر نے بعد میں فلم وجدا میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا جو 2012 میں مکمل طور پر سعودی عرب میں فلمائی جانے والی پہلی فیچر فلم تھی۔ بجٹ صرف 2.5 ملین ڈالر تھا، جو عالمی معیار کے مقابلے میں بہت کم سمجھا جاتا ہے، مگر اس کی اہمیت ناقابلِ بیان تھی۔ اُس وقت ملک میں فلم سازی کا مناسب ڈھانچہ موجود نہیں تھا، اسی لیے سب سے بڑی مشکلات تکنیکی اور انتظامی تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ منصوبہ بندی، ٹیم ٹریننگ اور مسلسل رابطے نے یہ مشکلات حل کیں۔
ادھر دوسری طرف اقيل الخمیس کا سفر ذرا مختلف تھا۔ وہ امریکہ کے آرٹ انسٹیٹیوٹ آف کولوراڈو میں فلم کی تعلیم لینے گئے، مگر وہاں انہیں فلم کے ساتھ ساتھ فیشن، عکاسی اور بصری فنون کے طلبہ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ شروع میں یہ میل جول بے ربط سا لگتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ انہیں احساس ہوا کہ مختلف فنون کے ملاپ سے تخلیقی عمل مزید وسیع ہوجاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک ہدایت کار کسی فیشن ڈیزائنر کے رنگوں سے متاثر ہو سکتا ہے، ایک مصنف کسی فوٹوگرافر کے لمس یا جذبات سے کردار تراش سکتا ہے — یہی باہمی تعاون فن کو آگے بڑھاتا ہے۔
اقيل کے مطابق، بیرون ملک رہ کر انہوں نے یہ سیکھا کہ اپنی تہذیب اور شناخت کو محسوس کرنا تخلیق میں رکاوٹ نہیں بلکہ طاقت ہے۔ جب فنکار جانتا ہے کہ وہ کون ہے، تو اس کی کہانی خودبخود عالمی ہوجاتی ہے۔ یہی سوچ آج بھی ان کے کام میں جھلکتی ہے۔ سعودی عرب میں وہ فلم، بصری فن اور ڈیجیٹل ڈیزائن کو ایک ساتھ ملا کر ایسے منصوبے تخلیق کر رہے ہیں جو نئی مگر مقامی شناخت سے بھرپور ہیں۔ وہ اسے "نئی بصری زبان” کہتے ہیں—ایک ایسا اسلوب جو سعودی روایت کے اندر رہتے ہوئے دنیا بھر سے بات کرتا ہے۔
دونوں فلم سازوں کی رائے اس بات پر ایک جیسی ہے کہ بیرون ملک تعلیم کا مقصد ہالی ووڈ کی نقل کرنا نہیں، بلکہ وہاں کی پیشہ ورانہ مہارت کو سیکھ کر اسے سعودی اقدار کے مطابق ڈھالنا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سعودی فلم انڈسٹری کو آگے بڑھانے کے لیے مضبوط انفراسٹرکچر، واضح پالیسیوں، آسان اجازت ناموں، اور مقامی پروڈیوسرز کو بڑے منصوبوں کی قیادت دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، ریاض اور نیوم سے باہر بھی فلمی ڈھانچہ قائم ہونا چاہیے تاکہ پورا ملک فلم سازی کے نقشے کا حصہ بن سکے۔
یہ سب کچھ سعودی وژن 2030 کے ثقافتی اہداف سے بھی میل کھاتا ہے، جہاں تخلیقی صنعتوں کو معاشی تنوع کا ایک بنیاد ی ستون قرار دیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے فلم کمیشنز، تربیتی اکیڈمیز، پروڈکشن زونز اور بین الاقوامی شراکتیں تیزی سے قائم ہو رہی ہیں۔ حال ہی میں سعودی فلم کمیشن نے لاس اینجلس میں امریکن فلم مارکیٹ میں حصہ لیا تاکہ ہالی ووڈ کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
جیسے جیسے سعودی عرب خطے میں فلم سازی کا مرکز بنتا جا رہا ہے، ویسے ویسے اس کے فلم ساز دنیا کو دکھا رہے ہیں کہ مقامی کہانیوں کو عالمی انداز میں پیش کرنا ممکن ہے — اور ضروری بھی۔ وہ نہ تقلید کر رہے ہیں، نہ مقابلہ؛ بلکہ وہ اپنی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی معیار کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
یہ وہ مرحلہ ہے جہاں سعودی کہانیاں صرف بیان نہیں ہوتیں، بلکہ عالمی اسکرینوں تک سفر کرتی ہیں — اپنے رنگ، اپنی خوشبو اور اپنی حقیقت کے ساتھ۔
