سعودی فضائی شعبے نے حال ہی میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا ہے کیونکہ سعودی ایوی ایشن کلب اور Messe Frankfurt گروپ نے مشترکہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کے سب سے بڑے سالانہ ایئر شو کی میزبانی کے لیے ہے۔ اس معاہدے کے تحت 2025 کا ایونٹ، جسے پہلے General Aviation Air Show 2025 Sand & Fun کے نام سے جانا جاتا تھا، اب Messe Frankfurt کے صنعتی پلیٹ فارم Aero Middle East کے ساتھ ضم ہو کر ایک وسیع اور جدید فضائی نمائش کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ سعودی ایوی ایشن کلب کے بانی و چیئرمین پرنس سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز نے اس اتحاد کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیا، جبکہ Messe Frankfurt کے سی ای او وولفگانگ مارزن نے کہا کہ یہ ایونٹ جنرل ایوی ایشن کمیونٹی کے لیے ناقابلِ مسامّت اور اہم ہوگا۔
یہ ایونٹ اس وقت ہو رہا ہے جب سعودی عرب کے فضائی شعبے میں نمایاں ترقی اور توسیع دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ملک میں اب 19 ایوی ایشن کلبز قائم ہو چکے ہیں جبکہ 46 مستند فلائنگ اسکولز بھی فعال ہیں جو ملکی فضائی تربیت اور ہنر کی نشوونما میں معاون ہیں۔ Sand & Fun 2025 ایئر شو 25 سے 29 نومبر تک ریاض کے شمال میں واقع Al Thumamah Airport میں منعقد ہو رہا ہے اور اسے نہ صرف عوامی اور تفریحی ایونٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ ایک اہم صنعتی پلیٹ فارم بھی سمجھا جا رہا ہے جہاں فضائی کمپنیاں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ادارے، تربیتی مراکز اور حکومتی و نجی ادارے ایک جگہ جمع ہوں گے۔
اس شو میں 90 سے زائد فضائی مظاہرے ہوں گے اور 150 سے زیادہ نمایاں نمائش کنندگان شریک ہوں گے، جن میں بین الاقوامی کمپنیاں، مقامی تربیتی ادارے، مینٹیننس اور ایوی ایشن سروس فراہم کرنے والی فِرْمیں شامل ہیں۔ توقع ہے کہ تقریباً 200,000 سے زائد وزیٹرز اس سال کے ایونٹ میں شرکت کریں گے، جو پچھلے ایڈیشنز کی نسبت دلچسپی اور شمولیت میں نمایاں اضافہ ہے۔ مزید برآں، شو کے دوران 17 سے زائد دیگر معاہدات اور MoUs بھی دستخط کیے گئے ہیں، جن میں حکومتی اور نجی ادارے شامل ہیں جیسے کہ Royal Commission for Jubail and Yanbu، Imam Abdulaziz bin Mohammed Royal Reserve Development Authority، Saudi Aircraft Preparation and Maintenance Company، GGAS Aviation Services اور دیگر ادارے۔ ان معاہدات کا مقصد عام ہوابازی کا انفراسٹرکچر مضبوط بنانا، مستقبل کی ٹیکنالوجیز اپنانا، تربیتی صلاحیتیں بہتر بنانا، اور حفاظتی و فنی خدمات فراہم کرنا ہے۔
سعودی حکومت اور متعلقہ ادارے فضائی شعبے کو ایک نئی سمت دینے پر کام کر رہے ہیں اور پچھلے برسوں میں بزنس جیٹ سیکٹر میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے ملکی فضائی سرگرمیوں، روزگار اور سرمایہ کاری میں نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایونٹ نوجوان پائلٹس، انجینئرز اور فضائی شعبے کے شوقین افراد کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا اور سعودی عرب کو عالمی فضائی مارکیٹ میں نمایاں مقام دے گا۔ ایونٹ میں جدید فضائی ٹیکنالوجیز بھی پیش کی جائیں گی، جن میں eVTOL طیارے، خودکار اور برقی ہوابازی، جدید مینٹیننس سروسز اور تربیتی انسٹی ٹیوٹس شامل ہیں۔ اس طرح سعودی عرب میں فضائی صنعت میں جدیدیت اور خود کفالت کی راہیں کھلیں گی، جو Vision 2030 کے تحت صنعتی تنوع اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے اہداف کے عین مطابق ہے۔
یہ ایئر شو عام عوام کے لیے بھی کھلا ہے تاکہ خاندان، نوجوان اور طلبہ بھی اس کا حصہ بن سکیں۔ اس سے عام ہوابازی ایک ثقافتی، تفریحی اور معاشرتی اہمیت کا حامل بنے گی اور نوجوانوں کو فضائی شعبے میں کیریئر کے مواقع فراہم کرے گی۔ مختلف حکومتی ادارے، نجی شعبے، بین الاقوامی کمپنیاں اور تعلیمی ادارے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں گے، جو سعودی عرب کے فضائی کاروبار کی ترقی اور عالمی اہمیت کو بڑھائے گا۔
اگر موجودہ منصوبے اور معاہدات پر کامیابی سے عمل ہوا تو سعودی عرب آئندہ چند برسوں میں ہوابازی اور ایوی ایشن کے میدان میں ایک علاقائی مرکز بن سکتا ہے۔ عام ہوابازی کی ثقافت میں اضافہ ہوگا، نوجوان پائلٹس، انجینئرز اور ٹیکنیشنز سعودی عرب میں کام کریں گے، اور معیشت کو نئی جہت ملے گی۔ فضائی شعبے کی ترقی سے سرمایہ کاری، جدت اور تکنیکی ترقی کے راستے کھلیں گے اور سعودی عرب جدید فضائی ملک بن سکے گا۔
سعودی ایوی ایشن کلب اور Messe Frankfurt کے مابین یہ شراکت — اور اس سے منسلک Sand & Fun / Aero Middle East 2025 ایئر شو — ایک حکمت عملی ہے جو سعودی عرب کے فضائی مستقبل کا نقشہ بدل سکتی ہے۔ یہ اقدام فضائی شعبے کو صنعتی اور معاشی لحاظ سے تقویت دیتا ہے، نوجوانوں اور ٹیکنالوجی کے شوقین افراد کے لیے نئے مواقع پیدا کرتا ہے، بین الاقوامی شراکت، ٹیکنالوجی منتقلی اور جدید تربیت کی راہیں کھولتا ہے، عام ہوابازی کو معاشرتی اور اقتصادی حیثیت دیتا ہے، اور Vision 2030 کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیابی سے آگے بڑھے تو سعودی عرب نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر فضائی صنعت اور عمومی ہوابازی کا مرکزی مقام بن سکتا ہے۔
