اس ہفتے بحیرۂ روم کے خطے میں ایک بڑی مشق اختتام کو پہنچی، جہاں سعودی عرب کی شاہی بحریہ نے مصر کے ساحلوں پر ہونے والی وسیع البنیاد مشترکہ جنگی مشق میں اپنا حصہ مکمل کیا۔ اگرچہ یہ سرگرمی صرف تین دن جاری رہی، مگر اس کی نوعیت، کثافت، اور آپریشنل سطح سے ظاہر ہوتا تھا کہ اس کے پیچھے کئی ماہ کی تیاری، منصوبہ بندی اور بین الاقوامی رابطے شامل تھے۔ اس مشق میں سعودی عرب کے علاوہ یونان، فرانس، قبرص اور مصر کی بحری افواج شریک تھیں، جبکہ درجنوں ممالک کے مبصرین نے مشاہداتی حیثیت سے سرگرمیوں کا جائزہ لیا تاکہ جدید بحری جنگی حکمت عملیاں اور بین الاقوامی تعاون کے معیار کو سمجھا جاسکے۔
اس مشق کو "میڈوسا 14” کے نام سے جانا جاتا ہے — جو برسوں سے بحیرۂ روم میں ہونے والی مشترکہ بحری مشقوں کی ایک طویل سیریز کا حصہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان مشقوں میں نہ صرف وسعت آئی ہے بلکہ یہ محدود تربیتی سرگرمیوں سے بڑھ کر مکمل آپریشنل مشقوں کی صورت اختیار کرچکی ہیں، جن کا مقصد دوست ممالک کی بحری افواج کو مختلف سیکورٹی چیلنجز کے ماحول میں مل جل کر کام کرنے کی صلاحیت دینا ہے۔ اس سال کی مشق کا مجموعی ماحول زیادہ متنوع، جامع اور پیچیدہ تھا۔
گزشتہ برسوں کے برعکس، اس مرتبہ مشق کے موضوعات ایک ہی دائرے میں محدود نہیں رہے۔ "میڈوسا 14” میں دفاعی حکمتِ عملیوں کے ساتھ ساتھ وہ آپریشنل ردعمل بھی شامل تھے جو سمندری راستوں میں بڑھتے ہوئے خطرات، ساحلی علاقوں میں عدم استحکام، اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہیں۔ بحیرۂ روم اور بحیرۂ احمر سے منسلک ممالک گزشتہ کچھ برسوں سے انہی مسائل کا سامنا کرتے رہے ہیں، اس لیے باہمی تعاون پر مبنی تربیت ان کے لیے پہلے سے زیادہ اہم ہوچکی ہے۔
مشق کے آخری روز کئی سطحوں پر مربوط کارروائیاں کی گئیں۔ بحری جہازوں نے ایسے آپریشنز کا عملی مظاہرہ کیا جن کا مقصد توانائی کے ذخائر، تنصیبات اور اہم سمندری راستوں کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ آبدوز مخالف آپریشنز بھی کیے گئے، جو اس بات کی علامت تھے کہ عالمی سطح پر پانی کے اندر سرگرمیوں کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی کو سنجیدگی سے لیا جارہا ہے۔
ایک اور اہم پہلو غیر روایتی بحری خطرات سے متعلق تھا، جس میں تیز رفتار چھوٹی کشتیاں، بغیر پائلٹ سسٹمز، یا کم لاگت والے حملہ آور ہتھیار شامل ہوسکتے ہیں۔ اس حصے میں بڑے بحری جہازوں نے اچانک حملوں کا مقابلہ کرنے، دشمن کشتیوں کو روکنے اور غیر روایتی حربوں کا سدباب کرنے کی مشق کی۔ موجودہ دور میں ایسے چیلنجز زیادہ عام ہوتے جارہے ہیں، اسی لیے اس طرز کی ورکنگ جدید نیول آپریشنز کا لازمی جزو سمجھی جاتی ہے۔
مشق میں سمندر سے خشکی پر کارروائیاں (Amphibious Operations) بھی شامل تھیں۔ اس دوران اسپیشل فورسز، میرینز، اور بحری دستوں نے مشترکہ آپریشنز کیے جن میں ہیلی کاپٹرز، جنگی جہاز اور ٹرانسپورٹ پلیٹ فارمز باہم مربوط طریقے سے استعمال کیے گئے۔ یہ کارروائیاں ان حقیقی حالات کی عکاسی کرتی ہیں جب کسی ساحلی علاقے کو محفوظ کرنا، قیدیوں کو بازیاب کرانا یا دشمن کے قبضے سے علاقے کا کنٹرول واپس لینا ضروری ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ سرچ اینڈ ریسکیو کے مشن بھی مشقوں کا حصہ تھے۔ خراب موسم، ہنگامی صورتحال یا سمندری حادثات جیسے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے عملے نے گمشدہ افراد کو تلاش کرنے، زخمیوں کو نکالنے اور فوری طور پر مدد فراہم کرنے کی تربیت حاصل کی۔ موجودہ عالمی تناظر میں بحری افواج کا کردار جنگی کارروائیوں سے بڑھ کر انسانی امداد اور قدرتی آفات کے دوران ریسکیو مشنز تک وسیع ہوچکا ہے۔
الیکٹرانک وارفیئر کا مرحلہ اس مشق کا سب سے زیادہ تکنیکی حصہ تھا۔ اس میں جہازوں کو ایسے ماحول میں آپریٹ کرنے کی ٹریننگ دی گئی جہاں مواصلاتی نظام جام ہوں، ریڈار متاثر ہو یا جیمنگ کے ذریعے نیویگیشن بگڑ جائے۔ جدید دور میں الیکٹرانک جنگ کاری کسی بھی قسم کی عسکری سرگرمی کو مفلوج کرنے کا مؤثر ذریعہ بن چکی ہے، اسی لیے اس شعبے میں مہارت ناگزیر ہے۔
دیگر حصوں میں جنگی غوطہ خوری، فائرنگ کی مشق، اور چھوٹے عسکری یونٹس کی مربوط کارروائیاں شامل تھیں۔ یہ تمام تربیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید بحری اہلکار کو کہیں بھی، کسی بھی ماحول میں فوری ردعمل دینے کے قابل ہونا چاہیے۔
سعودی وفد نے پوری مشق کے دوران بے مثال پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ شاہی بحریہ کی نمائندگی کرتے ہوئے بریگیڈیئر جنرل سعد بن سفار الاحمری نے کہا کہ سعودی دستے ہر مرحلے میں مکمل تیاری کے ساتھ شریک ہوئے اور مختلف ممالک کی بحری افواج کے ساتھ بہترین ہم آہنگی دکھائی۔ ان کے مطابق اس طرح کی مشترکہ کارروائیاں سعودی عرب کو نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی سطح پر سمندری راستوں کے تحفظ میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
اختتامی تقریب میں سعودی عرب کی ویسٹرن فلیٹ کے افسران بھی شریک ہوئے، جن کی قیادت میجر جنرل منصور بن سعود الجعید کر رہے تھے۔ دیگر ممالک کے اعلیٰ عسکری افسران نے بھی شرکت کی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ علاقائی اور بین الاقوامی دفاعی تعاون کو کس قدر اہمیت دی جارہی ہے۔
اگرچہ "میڈوسا 14” صرف چند دنوں پر محیط تھی، لیکن اس کی اصل اہمیت ان تعلقات میں ہے جو اسے کامیاب بناتے ہیں۔ جیسے جیسے بحری خطرات پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں، ویسے ویسے مشترکہ مشقیں ممالک کے درمیان رابطہ، سمجھ بوجھ، اور مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت کو بڑھا رہی ہیں۔ ان مشقوں کے ذریعے مختلف ممالک ایک دوسرے کے آپریشنل طریقوں، ٹیکنالوجی اور مشترکہ ردعمل کی صلاحیتوں سے واقف ہوتے ہیں۔
بحیرۂ روم ہمیشہ سے ایک اسٹریٹجک مقام رہا ہے، اور موجودہ حالات — جیسے قدرتی گیس کے ذخائر پر بڑھتی رقابت، تجارتی راہداریوں میں کشیدگی، اور ساحلی علاقوں میں مسلح گروہوں کی سرگرمی — اس مقام کی اہمیت کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں سمندری افواج کی تیاری اور باہمی تعاون بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔
ان مشقوں کا ایک پہلو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا جانے والا کام بھی ہے۔ سمندر میں پناہ گزینوں کی آمد و رفت، کشتیوں کے حادثات اور شدید موسم میں امدادی کارروائیاں بحری افواج کو زیادہ ذمہ داری کا حامل بنا رہی ہیں۔ "میڈوسا 14” کے دوران اس نوعیت کے عناصر کو بھی شامل رکھا گیا تاکہ فورسز ہنگامی حالات میں بہتر انداز میں کام کرسکیں۔
مشق نے ٹیکنالوجی کے تبادلے کے دروازے بھی کھولے۔ شریک ممالک نے جدید آلات جیسے ڈرون، نگرانی کے نظام، اور جدید سونار ٹیکنالوجی کا عملی مظاہرہ کیا۔ اس سے نہ صرف معلومات کا تبادلہ ہوا بلکہ ممالک کو اپنی موجودہ صلاحیتوں کا جائزہ لینے کا موقع بھی ملا۔
اختتام پر تمام ممالک کے کمانڈرز نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ مشق اپنے تمام مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ مبصر ممالک نے بھی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور مربوط کارروائیوں کو سراہا۔
بالآخر "میڈوسا 14” ایک عام مشق نہیں تھی، بلکہ ایک مضبوط پیغام تھا کہ عالمی سطح پر سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون اور مشترکہ تیاری ناگزیر ہے۔ سعودی عرب کے لیے یہ مشق بین الاقوامی سطح پر اس کے بڑھتے ہوئے کردار اور بحری استحکام میں اس کی شمولیت کا ایک اور اہم قدم ثابت ہوئی۔
