سعودی وزیرِ خزانہ محمد الجدعان نے کہا ہے کہ قومی بجٹ 2026 مملکت کے وژن 2030 کے تاریخی سفر میں ایک سنگِ میل حیثیت رکھتا ہے، جو معیشت کو نئی رفتار دینے اور ترقی کے نئے دروازے کھولنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
الاخباریہ کے مطابق بجٹ کے اعلان کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سال 2025 مکمل طور پر عمل درآمد کا سال ہوگا، جس میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سرکاری و نجی شعبے میں رونما ہونے والی زبردست مسابقت اور اصلاحاتی پیش رفت اپنے نتائج دکھانا شروع کر دے گی۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ وژن 2030 کے روڈ میپ میں شامل بڑی اصلاحات میں سے 93 فیصد اہداف درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، جو حکومتی پالیسیوں کی مضبوطی، سمت اور تسلسل کی واضح علامت ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق بجٹ میں قومی ترجیحات کو مرکزیت دیتے ہوئے تیل کے علاوہ شعبوں کی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینا، اقتصادی تنوع کو مضبوط بنانا اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنا بنیادی ستون ہوں گے۔
محمد الجدعان نے بجٹ خسارے کو اسٹریٹیجک سرمایہ کاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے آج خرچ کی جانے والی رقم مستقبل میں واضح معاشی اثرات دکھائے گی، جو سال 2026 سے نمایاں ہونا شروع ہوں گے اور 2030 تک معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نان آئل سیکٹر میں تاریخی ترقی توسیعی اخراجات اور مضبوط پالیسیوں کا براہ راست نتیجہ ہے، جو سعودی معیشت کو زیادہ مضبوط، متنوع اور عالمی مسابقت کے لیے تیار کر رہی ہے۔
