۔اسلام آباد: پاکستان کی معاشی صورتحال کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سعودی عرب نے 3 ارب ڈالرز کے ڈپازٹ کی مدت میں ایک بار پھر مزید ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذرائع کے مطابق یہ ڈپازٹ سعودی ڈیولپمنٹ فنڈ (SDF) کے ذریعے جمع کرایا گیا تھا اور اس کی موجودہ مدت آج ختم ہونا تھی، تاہم ریاض کی جانب سے بروقت توسیع نے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو بڑا سہارا فراہم کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے یہ 3 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے پاس امانتی طور پر محفوظ ہیں، جو نہ صرف پاکستان کے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرتے ہیں بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے اعتماد میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ اس توسیع سے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے ایک بار پھر یہ واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب مشکل وقت میں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو یہ ڈپازٹ 2021 میں اس وقت فراہم کیا تھا جب ملک شدید معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا۔ اس سہولت کا مقصد پاکستان کے غیر ملکی ذخائر کو مضبوط بنانا اور فوری مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران یہ ڈپازٹ متعدد مرتبہ بڑھایا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان قریبی اسٹریٹیجک اور معاشی تعلقات کی گواہی دیتا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق سعودی ڈپازٹ میں یہ تازہ ترین توسیع پاکستان کے مالیاتی استحکام، معیشت کو سہارا دینے، اور عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان سعودی تعلقات کی مضبوطی، مسلسل تعاون اور باہمی اعتماد کے نئے دور کی عکاسی کرتا ہے۔
