ریاض: سعودی عرب کی نائب وزیرِ سیاحت شہزادی ہیفاء بنت محمد نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب میں مقامی سیاحوں کا خرچ 2024ء کی تیسری سہ ماہی میں 105 بلین ریال تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 18 فیصد زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی سیاح، سعودی عرب کے سیاحتی شعبے کی پائیدار ترقی میں ’’بنیادی ستون‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
شہزادی ہیفاء بجٹ 2026 فورم کے دوران "حکومتی اخراجات کے اہداف کے مطابق وعدہ مند شعبے‘‘ کے عنوان سے منعقدہ مکالماتی سیشن میں اظہار خیال کر رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی سیاحتی نظام نے گزشتہ برس 100 ملین سے زائد سیاحوں کا استقبال کیا، جس سے شعبے میں مجموعی اخراجات 275 بلین ریال تک پہنچےیہ سعودی سیاحت کی تاریخ میں ایک نمایاں پیش رفت ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 2024ء میں سعودی عرب نے 30 ملین بیرونی سیاحوں کی میزبانی کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا، جبکہ بین الاقوامی وزٹرز کا مجموعی خرچ 168.5 بلین ریال تک جا پہنچا، جو 2023ء کے مقابلے میں 19 فیصد اضافہ ہے۔ اس سالیانہ نمو نے سعودی سیاحت کے شعبے کو دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی صنعتوں میں شامل کر دیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024ء میں سعودی سیاحت نے مجموعی طور پر 8 فیصد کی نمو حاصل کی، جس کا سہرا حکومتی اصلاحات، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، نئے سیاحتی مقامات کی ترقی، اور ویژن 2030 کے تحت سیاحت کو معیشت کا اہم ستون بنانے کو دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق داخلی سیاحت کا بڑھتا ہوا رجحان نہ صرف معیشت کو مستحکم کر رہا ہے بلکہ نئے روزگار کے مواقع، ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ اور مقامی معیشتوں کی مضبوطی میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
