اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو نے سال 2025 کے لیے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے سعودی عرب کے تین شہروں—ریاض، العُلا اور ریاض الخبراء—کو ’’یونیسکو گلوبل نیٹ ورک آف لرننگ سٹیز‘‘ میں شامل کر لیا ہے۔ یہ اعلان سعودی عرب کی اُن وسیع تر کوششوں کی علامت ہے جن کا مقصد ملک بھر میں آجِیوانہ تعلیمی نظام کو مضبوط بنانا اور وسائلِ انسانی کو عالمی معیار کے مطابق ترقی دینا ہے۔
اس فیصلے کے بعد سعودی عرب کے ایسے شہروں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے جنہیں یونیسکو نے باضابطہ طور پر ایسے مقامات قرار دیا ہے جہاں تعلیم اور سیکھنے کے مواقع ہر عمر اور ہر طبقے کے شہریوں کے لیے مسلسل دستیاب رہتے ہیں۔ اس میں پہلے سے شامل شہر جبیل، ینبع، مدینہ منورہ، الاحساء اور کنگ عبداللہ اکنامک سٹی ہیں، جبکہ اب تین نئے شہروں کا اضافہ سعودی عرب کی تعلیمی سمت کی نئی پہچان سمجھا جا رہا ہے۔
’’لرننگ سٹیز‘‘ کا تصور دنیا بھر میں شہروں کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے لیے سیکھنے کے مواقع روزمرہ زندگی کے ہر حصے تک پھیلا دیں—چاہے وہ اسکولوں کے ذریعے ہوں، دفاتر اور ورکشاپس میں ہوں، کمیونٹی سینٹرز اور لائبریریوں میں ہوں یا گھر اور محلے کی سطح پر۔ اس عالمی نیٹ ورک میں شامل ہونے کے لیے کسی بھی شہر کو یہ ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے کہ وہاں تعلیم اور مہارتیں سیکھنے کا عمل صرف بچوں تک محدود نہیں بلکہ بڑوں، خواتین، ملازمین، نئی ٹیکنالوجی سیکھنے والوں، ہنرکاری سے وابستہ لوگوں، اور حتیٰ کہ اُن شہریوں تک بھی پہنچ رہا ہے جنہیں ابتدائی عمر میں تعلیم مکمل کرنے کا موقع نہیں ملا۔
یونیسکو ان شہروں میں شمولیت کے لیے اس بات کو خاص اہمیت دیتا ہے کہ وہ مستقبل کی لیبر مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق اپنے شہریوں کو ازسرِنو تربیت دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق مہارتیں فراہم کرتے ہوں اور ایسے ماحول کی تشکیل میں سرگرم ہوں جہاں انٹرپرینیورشپ، تخلیقی صلاحیت اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
ریاض کو اس فہرست میں شامل کیا جانا نہ صرف اس کی سیاسی و معاشی اہمیت کی وجہ سے اہم ہے بلکہ اس وجہ سے بھی کہ شاہی دارالحکومت کے طور پر یہ شہر سعودی وژن 2030 کا مرکز سمجھے جانے والے منصوبوں کا بنیادی محور ہے۔ پچھلے چند برسوں میں ریاض نے جدید ترین تعلیمی ماڈلز، ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز، آن لائن ٹریننگ کورسز، اور عالمی معیار کی اسکولنگ و یونیورسٹیوں کے ذریعے اپنے تعلیمی ڈھانچے کو نئی شکل دی ہے۔
یونیسکو کے مطابق شہر نے ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں بچے، نوجوان، بالغ افراد، ملازمین اور گھریلو خواتین سب ہی کو مواقع میسر آتے ہیں کہ وہ بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کے مطابق اپنے علم اور ہنر کو بڑھا سکیں۔ مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، جدید ٹیکنالوجیز، گرین اکنامی اور سمارٹ سٹی مینجمنٹ جیسے شعبوں میں تربیت کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی ماحولیات کے تحفظ، شجرکاری، ماحولیاتی آگاہی، اور پائیدار شہری ترقی سے متعلق پروگرام بھی شہریوں کو مسلسل سیکھنے کا حصہ بنا رہے ہیں۔
العُلا کا معاملہ مختلف مگر بے حد دلچسپ ہے۔ یہ شہر اپنی تاریخ، تہذیب اور عالمی ورثے کی حامل مقامات جیسے ’’ہیجرا‘‘ کی وجہ سے دنیا بھر میں شناخت رکھتا ہے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں میں العُلا نے سیکھنے اور ثقافتی آگاہی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ یہاں چالیس سے زائد تربیتی اور تعلیمی پروگرام چل رہے ہیں جن میں ڈیجیٹل لرننگ، کمیونٹی لرننگ، سیاحت سے متعلق خصوصی تربیت، ماحولیات سے متعلق آگاہی، روایتی ہنر، تاریخی ورثے کی حفاظت، اور نوجوانوں و خواتین کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ شامل ہیں۔
اس شہر میں ماحولیاتی تعلیم پر خاص توجہ دی جاتی ہے تاکہ مقامی لوگ نہ صرف اپنے آس پاس کے قدرتی ماحول کی حفاظت کر سکیں بلکہ مستقبل کی ایک ایسی پائیدار معیشت کا حصہ بھی بن سکیں جو سیاحت، ثقافت اور کاروباری تخلیقی صلاحیتوں پر مبنی ہو۔ العُلا اس بات کی مثال بن چکا ہے کہ ایک تاریخی شہر بھی کس طرح جدید تعلیم اور روایتی شناخت کے ملاپ سے ایک مربوط ’’لرننگ سٹی‘‘ کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔
ریاض الخبراء کو شامل کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے علاقوں کو بھی قومی ترقی کے مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یونیسکو کی شمولیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ علاقہ بھی بالغ تعلیم، کمیونٹی لرننگ، ڈیجیٹل لرننگ، اور پیشہ ورانہ تربیت کے حوالے سے نمایاں اقدامات کر رہا ہے۔
چھوٹے شہروں کا اس نیٹ ورک کا حصہ بننا یہ پیغام دیتا ہے کہ تعلیم اور مہارتوں کی ترقی صرف بڑے مراکز کا حق نہیں بلکہ پورے ملک میں یکساں مواقع پیدا کرنے کی پالیسی پر عمل ہو رہا ہے۔ اس طرح شہریوں کو ان کے اپنے شہروں میں اعلیٰ معیار کے تعلیمی مواقع فراہم ہو رہے ہیں اور شہروں کی سماجی و اقتصادی ساخت بہتر ہو رہی ہے۔
سعودی وژن 2030 ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس کا بنیادی مقصد انسانی ترقی کو جدید عالمی معیارات سے ہم آہنگ کرنا ہے، اور ’’لرننگ سٹیز‘‘ اس وژن کا اہم جزو ہیں۔ ان شہروں کی مدد سے نہ صرف شہریوں کو نئے ہنر سیکھنے اور بہتر ملازمتوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے بلکہ معاشرے میں سیکھنے کی وہ روایت بھی فروغ پا رہی ہے جو آگے چل کر ایک معلوماتی، جدید اور معتبر قوم کی بنیاد رکھتی ہے۔ صنفی مساوات، سوشل انکلوزن، تعلیمی رسائی، ثقافتی ہم آہنگی اور ماحولیاتی تحفظ جیسے شعبوں میں ان شہروں کی شمولیت مزید پائیدار ترقی کا راستہ ہموار کرتی ہے۔
