سعودی عرب اور قطر نے حالیہ ملاقات میں خلیج خطے کی تاریخ کا ایک انتہائی بڑا اور طویل المدتی سفری منصوبہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان نئی اقتصادی، سماجی اور سفری راہیں کھولنے والا ثابت ہوگا۔ ریاض میں ہونے والی اس مشترکہ ملاقات میں نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی گئی، بلکہ ایک ایسے تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک کی منظوری بھی دی گئی جو پہلی مرتبہ قطر اور سعودی عرب کے بڑے شہروں کو براہِ راست ریل کے ذریعے جوڑ دے گا۔ یہ منصوبہ خطے میں رابطوں کے نظام کو یکسر تبدیل کر دے گا اور دونوں دارالحکومتوں کے درمیان سفر کو انتہائی تیز، آسان اور جدید بنائے گا۔
اس منصوبے کے مطابق ریاض کے نئے کنگ سلمان انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ٹرین چلے گی جو براہِ راست قطر کے دارالحکومت دوحہ کے حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک پہنچے گی۔ دونوں کے درمیانی فاصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرین کی رفتار 300 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ رکھی گئی ہے، تاکہ سفر کا دورانیہ صرف دو گھنٹے رہ جائے۔ خلیج کے مسافروں کے لیے یہ ایک بڑی اور تاریخی سہولت ہوگی، کیونکہ موجودہ سفری طریقوں میں یا تو ہوائی سفر پر انحصار کرنا پڑتا ہے یا زمینی راستے پر کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ اس منصوبے نے دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کو علامتی طور پر بھی کم کر دیا ہے، جو سفارتی تعلقات میں نئی مضبوطی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
ریل لائن کی مجموعی لمبائی تقریباً 785 کلومیٹر ہوگی، جس میں مختلف اہم مقامات پر اسٹیشن بھی بنائے جائیں گے۔ ہفوف اور دمام جیسے شہروں میں ریل کی سہولت نہ صرف مقامی شہریوں کے لیے آسانی پیدا کرے گی بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان سفر کرنے والوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگی۔ ان شہروں کی جغرافیائی اہمیت کے پیشِ نظر اس منصوبے سے نہ صرف مسافروں کی آمدورفت بڑھے گی بلکہ تجارتی سامان کی نقل و حمل میں بھی تیزی آئے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی راہداریوں کو مضبوط بنانے کے لیے یہ منصوبہ ایک اہم ستون بن کر اُبھرے گا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق اس منصوبے کو چھ سال کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ تعمیراتی سرگرمیوں، ٹیکنالوجی کی فراہمی، انجینئرنگ کے مراحل اور انفراسٹرکچر کی تیاری کے دوران تقریباً 30 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ یہ روزگار نہ صرف ریلوے منصوبے کے براہِ راست شعبوں میں پیدا ہوگا بلکہ متعلقہ شعبوں—جیسے تعمیرات، لاجسٹکس، ٹیکنالوجی، سیکیورٹی اور انتظامی کاموں—کو بھی فائدہ پہنچائے گا۔ دونوں ممالک کی معیشت پر اس منصوبے کا مجموعی مثبت اثر ایک کھرب ریال سے بھی زیادہ بتایا جا رہا ہے، جب کہ ماہرین اسے خلیجی خطے کی اقتصادی بہتری میں ایک انتہائی اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔
سالانہ دس ملین سے زائد مسافروں کی آمدورفت اس لائن کے ذریعے ہونے کی توقع ہے۔ یہ تعداد وقت کے ساتھ مزید بڑھ سکتی ہے، کیونکہ ریل سفر کی آسانی اور تیز رفتار نظام کے باعث لوگ اسے ترجیح دینے لگیں گے۔ ہوائی سفر کے مقابلے میں ریل زیادہ آرام دہ ہونے کے ساتھ کم کاربن اخراج کا ذریعہ بھی ہے، جس سے ماحول پر بوجھ کم ہوتا ہے اور پائیدار ٹرانسپورٹ کے خواص مزید مضبوط ہو جاتے ہیں۔
اس ریل منصوبے کی تیاری میں جدید ترین اسمارٹ ٹیکنالوجیز، ڈیجیٹل کنٹرول سسٹمز، جدید سگنلنگ، محفوظ آٹومیٹڈ بریکنگ، انٹرنیشنل معیار کی پٹریاں اور ہائی ٹیک آلات استعمال کیے جائیں گے۔ خطے کے موسمی حالات—جیسے زیادہ درجہ حرارت، ریت کے طوفان، نمی—کو مدنظر رکھتے ہوئے انجینئرنگ کے ایسے معیارات اپنائے جائیں گے جو ٹرینوں کے محفوظ اور بااختیار سفر کو ممکن بنائیں۔ ماحول دوست طریقوں کو ترجیح دیتے ہوئے تعمیر میں ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی جو توانائی کی بچت کرے اور ماحولیات کو کم سے کم نقصان پہنچائے۔
یہ منصوبہ دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوطی کی روشن مثال ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں قطر اور سعودی عرب کے درمیان تجارت میں حیران کن اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت 2021 کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ کر تقریباً ایک ارب ڈالر کے قریب جا پہنچی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک نہ صرف سفارتی سطح پر قریب آ رہے ہیں بلکہ معاشی طور پر بھی ایک دوسرے کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ مشترکہ کونسل کی حالیہ نشست میں توانائی، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، خوراکی تحفظ، صنعتوں کی ترقی اور کھیلوں کے شعبوں میں مزید تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا۔
یہ ریل لائن خلیجی ممالک کو ایک خطے کی صورت میں آپس میں جوڑنے کے بڑے منصوبے کا بھی حصہ ہے۔ خلیج کے اندر ایک متحد ریلوے نیٹ ورک بنانے کی کوششیں کئی برسوں سے جاری ہیں، اور یہ منصوبہ اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے میں سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ مستقبل میں امکان ہے کہ یہ ٹرین سروس کویت، بحرین، عمان اور متحدہ عرب امارات تک بھی رسائی فراہم کرے، جس سے پورے جی سی سی خطے میں انفراسٹرکچر کا انقلاب آئے گا۔
سیاحت کے شعبے پر اس منصوبے کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ریاض اور دوحہ دونوں عالمی سطح پر تیزی سے ترقی کرتے ہوئے سیاحتی مراکز بن رہے ہیں۔ کھیلوں کے بڑے ایونٹس، ثقافتی سرگرمیاں، نمائشیں، تجارتی معاہدے، کانفرنسیں اور عوامی میلوں میں آنے والی بین الاقوامی تعداد کو یہ ٹرین سروس آسان ترین رسائی فراہم کرے گی۔ ہوٹل، ایوی ایشن، فوڈ انڈسٹری، ٹور ایجنسیز اور مقامی مارکیٹس کو اس منصوبے کے ذریعے مضبوط معاشی فائدہ پہنچے گا۔
ریاض اور دوحہ کی قیادت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ منصوبہ صرف ٹرانسپورٹ کا منصوبہ نہیں بلکہ دونوں قوموں کے درمیان قریبی تعاون، مشترکہ ترقی اور مستقبل کے لیے ایک مربوط منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ آنے والے برسوں میں ٹیکنالوجی، توانائی کے متبادل ذرائع، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کے مزید بڑے منصوبے بھی مشترکہ طور پر متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔
ریلوے کا یہ نظام خلیج کے لوگوں کے لیے نہ صرف وقت کی بچت اور آسان سفر کا ذریعہ بنے گا بلکہ یہ خطے کے معاشی نقشے کو بھی تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ پراجیکٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ خلیجی ممالک مستقبل میں ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں کو کس حد تک اہمیت دے رہے ہیں۔
