سعودی عرب کے ساحلی شہر ربیغ میں طوفانی بارشوں نے تباہی کا منظر پیش کر دیا، شدید ہواؤں اور موسلادھار بارش کے باعث متعدد عمارتوں کی چھتیں گر گئیں جبکہ ملبے تلے آ کر کئی گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔ شہر کے شہری اور صحرائی علاقے گہرے پانی میں ڈوب گئے، جس سے نظامِ زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا۔
تیز ہواؤں کے ساتھ آنے والا بارشوں کا طاقتور سسٹم اب دیگر شہروں کی جانب بڑھ رہا ہے، جس پر حکام نے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے جدہ اور ربیغ میں آج تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔
طوفانی بارش سے شاپنگ سینٹرز، گھروں اور رہائشی عمارتوں کی چھتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ متعدد مقامات پر چھتیں گرنے کے نتیجے میں پارکنگ ایریاز میں کھڑی گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں، جن میں سے اکثر قابل استعمال نہ رہیں۔
دوسری جانب مدینہ منورہ میں بھی ابرِ رحمت برس پڑا، جہاں مسجد نبوی ﷺ کے اطراف موسلادھار بارش کے بعد موسم میں واضح سردی بڑھ گئی۔ زائرین نے بارش میں عبادت کا روح پرور منظر بھی دیکھا۔
محکمہ شہری دفاع نے خراب موسم کے باعث مقامی اور غیرملکی شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی سخت ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید بارشیں متوقع ہیں لہٰذا شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
