ریاض میں تین روزہ بلیک ہیٹ MEA 2025 سائبر سیکیورٹی کانفرنس شاندار کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، جس میں اس سال عالمی سطح پر 100,000 سے زائد شرکا، 300 اسپیکرز اور 500 عالمی برانڈز نے شرکت کی۔ یہ ایونٹ مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں سائبر سیکیورٹی کا سب سے بااثر پلیٹ فارم بن چکا ہے، جہاں عالمی تحقیق، جدید ٹیکنالوجیز اور نئے سیکیورٹی ماڈلز مستقبل کی سمت متعین کرتے ہیں۔
اس سال پاکستان نے اپنی تاریخ کی سب سے مضبوط نمائندگی پیش کی۔ پاکستانی پویلین نے بین الاقوامی مندوبین کی بھرپور توجہ حاصل کی اور ماہرین اور سیکیورٹی لیڈرز کو خصوصی طور پر اسٹیج پر مدعو کیا گیا، جن میں سید عبدالقادر اور حیدر عباس شامل تھے۔ پاکستانی وفد کی قیادت سید عبدالقادر، حیدر عباس، فیض احمد شجاع اور اہرار نقوی نے کی جبکہ عدنان رفیق احمد نے پورے دورے کی مؤثر میزبانی کی۔ اس کے علاوہ پاکستان ایمبیسی کے معزز حکام اور ریاض میں موجود ممتاز چیف ایگزیکٹیوز نے بھی شرکت کی، اور ایونٹ کی مربوط کوآرڈینیشن عبدالباری شعیب اور International Exhibition Management نے کی، جس نے پاکستانی نمائندگی کو عالمی معیار کے مطابق منفرد بنایا۔
بلیک ہیٹ MEA میں پاکستانی پویلین کے دورے سے ظاہر ہوا کہ پاکستانی ٹیلنٹ اور مہارت کو خطے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی اہمیت حاصل ہے۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے سائبر سیکیورٹی ماہرین نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی اسٹیج پر بھی اپنی پہچان بنا رہے ہیں، خصوصاً سائبر ڈیفنس، تحقیق، اے آئی سیکیورٹی اور انسیڈنٹ رسپانس کے شعبوں میں پاکستانی پروفیشنلز کی بڑھتی ہوئی مہارت اس ترقی کی عکاس ہے۔
بلیک ہیٹ MEA 2025 محض ایک ایونٹ نہیں بلکہ عالمی تعاون اور مشترکہ سیکیورٹی کا پلیٹ فارم ہے، جہاں پاکستان کا کردار تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے۔ جیسے جیسے عالمی خطرات کی نوعیت بدل رہی ہے، مشترکہ دفاع، انفارمیشن ایکسچینج اور ریجنل تعاون کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے، اور پاکستان کی اس تاریخی شرکت نے ثابت کر دیا کہ ملک کا سائبر سیکیورٹی سیکٹر اب عالمی گفتگو کا ایک فعال اور مؤثر حصہ بن چکا ہے
