سعودی عرب میں بصارت سے محروم افراد کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے والی ایک جدید اور انقلابی ایجاد سامنے آئی ہے، جہاں سعودی خاتون موجد ابتسام صالح العنمی کے تیار کردہ ’سمارٹ شوز‘ کو سعودی اتھارٹی فار انٹلیکچوئل پراپرٹی نے نیشنل میڈیکل انووینشن کے طور پر رجسٹر کر لیا ہے۔
اخبار 24 کے مطابق یہ جدید جوتے جدید ترین سینسرز سے لیس ہیں جو واک کے دوران کسی بھی رکاوٹ یا خطرے کا فوری پتہ لگا سکتے ہیں اور اس کے بارے میں صارف کو اطلاع دے سکتے ہیں۔ یہ سینسرز نہ صرف رکاوٹ کو نوٹ کرتے ہیں بلکہ وائبریٹر کے ذریعے وارننگ سگنل کو سمارٹ فون تک بھی بھیجتے ہیں، جس سے صارف فوری ردِعمل کر کے اپنا راستہ درست کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ایجاد بصارت سے محروم افراد کی خود اعتمادی اور خود مختاری میں نمایاں اضافہ کرے گی، انہیں زیادہ محفوظ اور آزادانہ طور پر حرکت کرنے کا موقع فراہم کرے گی اور روزمرہ کی زندگی میں پیش آنے والی رکاوٹوں سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
ابتسام العنمی کی یہ ایجاد ٹیکنالوجی اور انسانی ہمدردی کا ایسا بے مثال امتزاج ہے جو نہ صرف سماجی بلکہ طبی میدان میں بھی نئی مثال قائم کرے گا، اور دنیا بھر کے بصارت سے محروم افراد کے لیے قابل تقلید ماڈل ثابت ہوگا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اختراعات ٹیکنالوجی کے شعبے میں انسانی فلاح کو مرکزی اہمیت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہیں، جس سے سماجی شمولیت اور ذاتی آزادی کو فروغ ملے گا۔
