سعودی عرب میں غیرقانونی طورپرمقیم اورقوانین کی خلاف ورزی کرنےوالوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران گزشتہ ایک ہفتےمیں 19 ہزار 576 افرادکو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ کارروائیاں مملکت کے مختلف علاقوں میں انجام دی گئیں، جن کا مقصد اقامہ، لیبر اور سرحدی تحفظ قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 12 ہزار 506 افراد اقامہ قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے، جبکہ 4 ہزار 154 افراد سرحدی تحفظ قوانین اور 2 ہزار 916 افراد لیبر قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات غیر قانونی تارکینِ وطن کے مسئلے پر قابو پانے اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
اسی ہفتے کے دوران 12 ہزار 365 قانون شکن افراد کو ملک بدر کیا گیا، جبکہ 21 ہزار 803 غیر ملکیوں کو سفری دستاویزات کے حصول کے لیے ان کے متعلقہ سفارتی مشنز کے حوالے کیا گیا۔ مزید برآں 5 ہزار 202 افراد کو سفری انتظامات مکمل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کو بھیج دیا گیا تاکہ ان کی واپسی کا عمل جلد مکمل ہو سکے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق مملکت میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے 1 ہزار 418 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں 41 فیصد کا تعلق یمن، 57 فیصد ایتھوپیا جبکہ 2 فیصد دیگر ممالک سے تھے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی طور پر سعودی عرب سے باہر جانے کی کوشش کے دوران 24 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔
سعودی حکام نے مزید بتایا کہ اس وقت مجموعی طور پر 30 ہزار 427 غیر ملکیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے، جبکہ وزارتِ داخلہ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اقامہ، لیبر اور سرحدی قوانین کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، اور شہریوں و مقیم غیر ملکیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں
