سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض نے عالمی سطح پر مکالمے اور بین الثقافتی ہم آہنگی کے ایک اہم مرکز کی حیثیت اختیار کر لی، جہاں اقوامِ متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں (UN Alliance of Civilizations) کے گیارہویں عالمی فورم کا انعقاد کیا گیا۔ اس بین الاقوامی اجتماع میں دنیا بھر سے سیاسی رہنما، سفارت کار، مذہبی شخصیات، نوجوان نمائندگان، سول سوسائٹی کے افراد اور بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان شریک ہوئے۔ اس فورم نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ ایک تیزی سے بدلتی اور کثیر قطبی دنیا میں مکالمہ، رواداری اور باہمی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
فورم کے افتتاحی اجلاس میں سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے تفصیلی خطاب کیا، جس میں انہوں نے عالمی مکالمے کی ضرورت، تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان رابطے کی اہمیت، اور خاص طور پر نوجوان نسل کے کردار پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان محض مستقبل کے ناظر نہیں بلکہ آنے والے وقت کے قائد اور امن کے حقیقی سفیر ہیں، جو دنیا کو تصادم کے بجائے ہم آہنگی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔
یہ عالمی فورم سعودی عرب کی میزبانی میں اس عنوان کے تحت منعقد کیا گیا:
“انسانیت کے لیے مکالمے کے دو دہائیاں: کثیر قطبی دنیا میں باہمی احترام اور سمجھ بوجھ کے ایک نئے دور کی تشکیل”۔
یہ عنوان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فورم کا مقصد گزشتہ بیس برسوں میں ہونے والی عالمی مکالماتی کوششوں کا جائزہ لینا ہے، ساتھ ہی موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز کے تناظر میں نئے راستے تلاش کرنا بھی ہے، کیونکہ آج کی دنیا کو جغرافیائی سیاست، ثقافتی غلط فہمیوں اور نظریاتی تقسیم جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
فورم میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور اقوامِ متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں کے ہائی نمائندے میگوئل آنخل موراتینوس کی شرکت نے اس اجتماع کی عالمی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔ ان کے علاوہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ، اعلیٰ سیاسی شخصیات، مختلف مذاہب کے نمائندہ رہنما، بین الاقوامی اور علاقائی اداروں کے سربراہان اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے بھی فورم میں شرکت کی، جس سے مکالمے کو ایک جامع اور متنوع انداز ملا۔
اپنے خطاب میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے اس فورم کی میزبانی اقوامِ متحدہ کی ان کوششوں کی بھرپور حمایت کا مظہر ہے، جن کا مقصد تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینا، رواداری کو مضبوط کرنا اور پرامن بقائے باہمی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نفرت انگیز تقاریر اور انتہا پسندی کا مقابلہ صرف بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات اور بین الاقوامی تعاون سے ہی ممکن ہے۔
وزیرِ خارجہ نے اس موقع پر سعودی وژن 2030 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قومی وژن اعتدال، کشادہ دلی اور دیگر تہذیبوں کے ساتھ مثبت اور تعمیری روابط کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق وژن 2030 ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی بنیاد رکھتا ہے جو اپنی شناخت پر فخر کرتا ہو، مگر ساتھ ہی دنیا کے دیگر معاشروں اور ثقافتوں کے ساتھ مکالمے کے لیے کھلا ہو۔ انہوں نے کہا کہ نفرت، تعصب اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد ایک مشترکہ عالمی ذمہ داری ہے۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے فورم کے ایک اور اہم پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اتحادِ تہذیبوں کا یہ گیارہواں اجلاس گزشتہ دو دہائیوں میں ہونے والی کوششوں کا جائزہ لینے کا ایک قیمتی موقع فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کن اقدامات نے مثبت نتائج دیے اور کن پہلوؤں میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق مختلف تہذیبوں اور مذاہب کے درمیان تنوع کو بہتر انداز میں سنبھالنے کے لیے مکالمہ اور باہمی رابطہ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
نوجوانوں کے کردار پر بات کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امن، برداشت اور باہمی احترام پر مبنی دنیا کی تشکیل میں نوجوانوں کا کردار مرکزی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان نسل میں وہ صلاحیت، توانائی اور تخلیقی سوچ موجود ہے جو معاشروں کے درمیان فاصلے کم کر سکتی ہے۔ ان کے بقول، اگر نوجوانوں کو مناسب مواقع اور پلیٹ فارم فراہم کیے جائیں تو وہ عالمی سطح پر مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
شہزادہ فیصل نے فورم میں نوجوانوں کی بھرپور شرکت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہال میں نوجوانوں کی بڑی تعداد کو دیکھ کر انہیں دلی مسرت ہوئی۔ ان کے مطابق یہ شرکت محض نمائشی نہیں بلکہ حقیقی اور بامقصد ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان عالمی مکالمے میں سنجیدگی سے دلچسپی رکھتے ہیں اور اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
اسی عزم کے تحت فورم کے ساتھ ایک خصوصی یوتھ فورم بھی منعقد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو عالمی رہنماؤں کے ساتھ براہِ راست گفتگو کا موقع فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اسی مقام پر سلام پراجیکٹ برائے تہذیبی مکالمہ کے ینگ لیڈرز کوالیفکیشن پروگرام کے آٹھویں بیچ کی گریجویشن تقریب بھی منعقد کی جا رہی ہے، جس کا مقصد نوجوان رہنماؤں کو بین الثقافتی رابطے اور مکالمے کی تربیت دینا ہے۔
وزیرِ خارجہ کے مطابق ان تمام سرگرمیوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اتحادِ تہذیبوں کا یہ فورم درحقیقت نوجوانوں کا فورم بھی ہے۔ یہاں نوجوانوں کو مرکزیت دے کر یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ مستقبل کی حکمتِ عملی ان ہی کی سوچ اور شرکت سے تشکیل پائے گی، کیونکہ آنے والی دنیا کی باگ ڈور انہی کے ہاتھوں میں ہو گی۔
فورم کے مجموعی اہداف میں گزشتہ بیس برسوں کے عالمی مکالمے کا جائزہ لینا، موجودہ عالمی چیلنجز جیسے عدم برداشت، غلط معلومات، ثقافتی تقسیم اور شناخت پر مبنی تنازعات کا حل تلاش کرنا، اور مستقبل کے لیے مشترکہ تعاون کی راہیں ہموار کرنا شامل ہیں۔ اس اجتماع کا مقصد حکومتوں، بین الاقوامی اداروں، سول سوسائٹی اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا ہے تاکہ مکالمے کو ایک پائیدار عمل بنایا جا سکے۔
سعودی عرب کی جانب سے اس فورم کی میزبانی اس بات کی عکاس ہے کہ مملکت خود کو مختلف تہذیبوں کے درمیان ایک پل کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔ عالمی رہنماؤں اور نوجوانوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ تنوع کسی کمزوری کے بجائے ایک طاقت ہے، اور مکالمہ ہی وہ ذریعہ ہے جس سے پائیدار امن ممکن ہو سکتا ہے۔
جیسے جیسے فورم کے مباحث آگے بڑھ رہے ہیں، یہ بات مزید واضح ہو رہی ہے کہ مکالمہ آج بھی عالمی مسائل کے حل کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ مختلف پس منظر اور نسلوں سے تعلق رکھنے والی آوازوں کو یکجا کر کے یہ فورم ایک زیادہ جامع، پُرامن اور ہم آہنگ مستقبل کی امید کو تقویت دے رہا ہے۔ اس پورے وژن کے مرکز میں وہ سوچ ہے جس کا اظہار شہزادہ فیصل بن فرحان نے کیا: کہ نوجوان نہ صرف مستقبل کے رہنما ہیں بلکہ امن کے وہ سفیر بھی ہیں جو انسانیت کو بہتر سمت میں لے جا سکتے ہیں۔
