العلا، سعودی عرب: ثقافتی ورثے اور تخلیقی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ’فیلا الحِجر‘ نے فلم العلا کے ساتھ مل کر ایک خصوصی پروگرام کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد سنیما میں استعمال ہونے والی مہارتوں کی ترقی اور نوجوان تخلیق کاروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی (SPA) کے مطابق یہ انیشیٹیو ’فیلا الحِجر‘ کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت ثقافتی اور سینمائی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے اور نوجوانوں اور فلم کے شائقین میں تخلیقی جوش و جذبہ پیدا کیا جائے۔
اس پروگرام میں تربیتی کورسز اور ورکشاپس شامل ہیں، جن میں فلم پروڈکشن کے تمام مراحل پر توجہ دی جائے گی، جس میں سکرپٹ رائٹنگ، ہدایت کاری، تدوین، ایڈیٹنگ اور پوسٹ پروڈکشن شامل ہیں۔ ورکشاپس کا مقصد نوجوان ٹیلنٹ کو نہ صرف رہنمائی فراہم کرنا بلکہ سعودی عرب میں فلم کے شعبے کی ترقی کو فروغ دینا بھی ہے۔ ساتھ ہی بچوں کے لیے تعلیمی اور انٹرایکٹیو پروگرامز بھی تیار کیے گئے ہیں تاکہ ان میں موجود تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارا جا سکے اور سیکھنے کا عملی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
یہ ورکشاپس سائنس اور فنون کے امتزاج کے ذریعے بچوں اور نوجوانوں کے لیے سیکھنے کے عمل کو مزید دلچسپ اور فعال بنائیں گی، جس سے تخلیقی سوچ اور جدید آئیڈیاز کو پروان چڑھانے میں مدد ملے گی۔ ’فیلا الحِجر‘ کی ان کوششوں کی وجہ سے طالب علموں میں عملی اور انٹرایکٹیو سیکھنے کے ذریعے سوچ و فکر اور تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا ملتی ہے اور وہ مستقبل کے فلم ساز یا تخلیقی پروفیشنلز کے لیے بہتر طور پر تیار ہوتے ہیں۔
یہ انیشیٹیوز فرانس اور سعودی عرب کے اداروں کے درمیان بین الاقوامی تعاون کا نتیجہ ہیں، جس میں ثقافتی تنوع اور نوجوان نسل کے لیے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ ’فیلا الحِجر‘ پہلی مشترکہ سعودی اور فرانسیسی فاؤنڈیشن ہے، جس کا آغاز اکتوبر 2025 میں العلا میں ہوا۔ یہ فاؤنڈیشن سعودی بچوں اور نوجوانوں کی مہارتوں کی نشوونما کے ساتھ ساتھ العلا کے ثقافتی منظرنامے کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
اس پروگرام کے ذریعے نوجوان نہ صرف فلم سازی کے عملی ہنر سیکھیں گے بلکہ العلا کو بین الاقوامی ثقافتی اور تخلیقی مرکز کے طور پر بھی اجاگر کیا جائے گا، جو سعودی عرب میں تخلیقی صنعت کے فروغ اور ثقافتی تعاون کے نئے مواقع فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
