سعودی عرب میں حالیہ دنوں کے دوران موسم نے ایک بار پھر ماہرین اور عوام دونوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے، جہاں ایسے مناظر سامنے آ رہے ہیں جو عام طور پر اس خطے سے منسوب نہیں کیے جاتے۔ ملک کے مختلف حصوں میں سردی کی شدت، غیر معمولی درجۂ حرارت اور بعض بلند و شمالی علاقوں میں برف کے آثار نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس سال موسمی پیٹرن معمول سے خاصا مختلف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین موسمیات مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
قومی مرکز برائے موسمیات کے ترجمان حسین القحطانی کے مطابق حالیہ موسمی تبدیلیاں ایک وسیع سرد لہر کا حصہ ہیں، جس نے سعودی عرب کے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خاص طور پر ریاض کے شمالی حصوں اور قصیم کے بعض علاقوں میں ایسے موسمی امکانات پیدا ہو رہے ہیں جو گزشتہ برسوں میں شاذ و نادر ہی دیکھے گئے۔ ان علاقوں میں برف باری کے امکانات کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ یہ صورتحال خطے میں جاری غیر روایتی موسمی حالات کی عکاس ہے۔
قحطانی نے یہ بھی بتایا کہ ملک کے شمال میں واقع تبوک اور حائل کے بلند مقامات پر پہلے ہی برف باری دیکھی جا چکی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سردی کی یہ لہر محض درجۂ حرارت میں کمی تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ ان کے مطابق ان علاقوں میں درجۂ حرارت میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور برف اگرچہ ہر جگہ نہیں گر رہی، لیکن مخصوص مقامات پر اس کی موجودگی واضح ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موسم معمول کے انداز سے ہٹ کر ایک مختلف رخ اختیار کر چکا ہے۔
مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر درجۂ حرارت صفر ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے جانے کا امکان ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں یہ منفی دو ڈگری تک بھی گر سکتا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس سرد لہر کی شدت کو واضح کرتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس کا اثر براہِ راست اور نمایاں ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی انتباہات کو سنجیدگی سے لیں اور کسی بھی قسم کے خطرے سے بچنے کے لیے سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
قحطانی کے مطابق موسم سے متعلق تازہ ترین معلومات حاصل کرنے کے لیے قومی مرکز برائے موسمیات کے سرکاری ذرائع استعمال کرنا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے خاص طور پر “انواء” ایپ، خودکار انتباہی نظام اور مرکز کے دیگر مستند پلیٹ فارمز کا ذکر کیا، جہاں سے درست اور بروقت معلومات دستیاب ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو افراد ان موسمی مناظر سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں، انہیں بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور متعلقہ اداروں کی ہدایات کے مطابق مناسب وقت اور محفوظ مقام کا انتخاب کرنا چاہیے تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب موسمیاتی امور پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین بھی اس صورتحال پر اپنی آرا پیش کر رہے ہیں۔ القصیم یونیورسٹی کے سابق استاد اور سعودی موسمیاتی ایسوسی ایشن کے نائب صدر ڈاکٹر عبد اللہ المسند نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر وضاحت کی کہ شمالی سعودی عرب میں برفانی طوفان کوئی بالکل ناممکن بات نہیں، تاہم یہ واقعات نہایت محدود جغرافیائی علاقوں میں اور بہت مختصر مدت کے لیے ہی رونما ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق تاریخ میں ایسے واقعات موجود ہیں، مگر یہ عام نہیں اور ہر سال پیش آنے والا مظہر بھی نہیں۔
ڈاکٹر المسند نے یہ بھی واضح کیا کہ سعودی عرب میں برف باری کے پیچھے مخصوص جغرافیائی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق یا تو زمین کی سطح سمندر سے خاصی بلند ہونی چاہیے، جیسے جبل اللوز کے علاقے، یا پھر ملک کے انتہائی شمالی حصے میں واقع ہونا ضروری ہے جہاں سرد ہوائیں نسبتاً زیادہ شدت کے ساتھ اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان عوامل کے بغیر برف باری کا امکان بہت کم ہو جاتا ہے، چاہے سردی کی شدت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔
انہوں نے مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ برف کے گرنے کے لیے محض کم درجۂ حرارت کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے قدرتی عوامل کا ایک پیچیدہ امتزاج درکار ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سطح زمین کا درجۂ حرارت صفر یا دو ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہونا چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ نچلی اور بالائی فضا میں نمی کی سطح بھی نسبتاً زیادہ ہونی ضروری ہے۔ اسی طرح نقطۂ اوس کا صفر کے قریب ہونا بھی ایک اہم شرط ہے۔ جب تک یہ تمام عوامل بیک وقت پورے نہ ہوں، برف باری کا امکان بہت محدود رہتا ہے۔
ڈاکٹر المسند کے مطابق یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے بیشتر علاقوں میں برف باری ایک نایاب واقعہ سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایسے مواقع بہت کم آئے ہیں جب یہ تمام شرائط ایک ساتھ پوری ہوئیں۔ مثال کے طور پر جنوری 1973 میں ریاض اور الدرعیہ میں برف باری کا واقعہ پیش آیا تھا، جو تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہا۔ یہ واقعہ آج بھی ایک غیر معمولی موسمی مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ عام حالات میں ان علاقوں میں برف کا تصور بھی مشکل سمجھا جاتا ہے۔
موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ موسمی حالات دلچسپی اور تجسس کا باعث ہیں، لیکن ان کے ساتھ احتیاط بھی بے حد ضروری ہے۔ سردی کی شدت، پھسلن، اور کم درجۂ حرارت انسانی صحت اور روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اسی لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، مناسب گرم لباس استعمال کریں اور موسمی پیش گوئیوں کو نظر انداز نہ کریں۔
