یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے رکن طارق محمد صالح نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں یمن کی موجودہ سیاسی، سکیورٹی اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
طارق محمد صالح نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ ملاقات نہ صرف سیاسی لحاظ سے اہم تھی بلکہ اس میں بھائی چارے، اعتماد اور مشترکہ مفادات کے جذبات بھی نمایاں طور پر جھلکتے رہے۔انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے دوران یمن کے استحکام، قومی اتحاد کے فروغ اور خطے کی سلامتی کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔
طارق صالح کے مطابق میں نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی، جس میں بھائی چارے کے جذبے کے ساتھ میں نے یمن کی موجودہ صورتحال، یمن کے استحکام اور خطے کی سلامتی کے لیے مشترکہ اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب نے یمن کے صدارتی کونسل کے صدر رشاد العلیمی کی درخواست پر مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ریاض میں ایک جامع یمنی کانفرنس کے انعقاد کی حمایت کی ہے۔اس کانفرنس کا مقصد جنوبی یمن کی تمام سیاسی جماعتوں اور قوتوں کو مکالمے کی میز پر اکٹھا کرنا ہے، تاکہ جنوبی مسئلے کا ایک منصفانہ، متوازن اور پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب یمن کے جنوبی صوبوں کی متعدد سیاسی جماعتوں نے گزشتہ جمعہ کو عبوری جنوبی کونسل کے صدر عیدروس الزبیدی کے بعض یک طرفہ اقدامات کو سختی سے مسترد کر دیا تھا، اور انہیں جنوبی مسئلے کے لیے نقصان دہ قرار دیا تھا۔
سعودی عرب ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کر رہا ہے کہ وہ یمن کی صدارتی کونسل اور قانونی حکومت کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ ریاض کی کوششوں کا مقصد سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ اقتصادی بحالی، ترقیاتی منصوبوں اور ادارہ جاتی مضبوطی کے ذریعے یمن کو بحران سے نکالنا ہے۔
سعودی قیادت اس بات پر زور دیتی ہے کہ جنوبی یمن کا مسئلہ ایک منصفانہ اور حقیقی مسئلہ ہے، جسے کسی بھی سیاسی حل میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مسئلہ یمن کے قومی مکالمے کے اہم نتائج کا حصہ ہے اور اس کا حل صرف اتفاقِ رائے، وعدوں کی پاسداری اور تمام یمنیوں کے درمیان اعتماد کی بحالی سے ہی ممکن ہے۔
