سعودی عرب میں طبی اور سائنسی حلقوں نے موروثی امراضِ چشم کے حوالے سے ایک قومی سطح پر ابتدائی اسکریننگ پروگرام شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاکہ ان بیماریوں کے بڑھتے ہوئے رجحان اور جینیاتی نقائص کے ممکنہ خطرات سے نمٹا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق، خاندانی شادیوں کے باعث جینیاتی نقائص کے منتقل ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے، جو صرف کمزور بینائی ہی نہیں بلکہ بعض صورتوں میں مکمل نابینا پن کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اس پیش رفت کو ملکی صحت کے نظام اور سماجی بہبود کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ موروثی امراضِ چشم کے بروقت شناخت اور علاج سے نہ صرف طبی بلکہ نفسیاتی اور معاشی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
کنگ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال اور ریسرچ سینٹر میں موروثی طب کی ماہر ڈاکٹر مریم العیسیٰ کے مطابق سعودی عرب میں موروثی امراضِ چشم صحت کے لیے ایک بڑھتا ہوا چیلنج ہیں۔ ان میں پیدائشی گلوکوما، آنکھ کی پتلی کی موروثی بیماریاں اور لیبر کا پیدائشی مرض شامل ہیں، جو بعض کیسز میں مکمل نابینا پن تک جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر العیسیٰ نے کہا کہ ان بیماریوں کے اثرات صرف طبی نہیں بلکہ سماجی اور معاشی بھی ہیں، کیونکہ نابینا افراد کی تعلیم، روزگار اور سماجی شمولیت متاثر ہوتی ہے۔
ڈاکٹر العیسیٰ نے واضح کیا کہ موروثی امراضِ چشم کی بروقت شناخت کے لیے ایک مربوط اور قومی سطح پر حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ابتدائی اسکریننگ پروگرام نہ بنایا گیا تو نہ صرف صحت کی دیکھ بھال کا بوجھ بڑھ جائے گا بلکہ سماجی اور اقتصادی اخراجات بھی بڑھیں گے۔ اس ضمن میں تحقیقاتی مطالعوں نے یہ بات بھی اجاگر کی ہے کہ سعودی عرب میں بعض مخصوص جینیاتی تبدیلیاں، جیسے CYP1B1 جین، مقامی آبادی میں زیادہ پائی جاتی ہیں، جس سے موروثی امراضِ چشم کی شرح دیگر ممالک کے مقابلے میں بلند ہے۔
ماہرین کے مطابق، قومی سطح پر ابتدائی اسکریننگ پروگرام کے نفاذ سے کئی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ غیر ضروری نابینا پن میں کمی آئے گی، کیونکہ ابتدائی شناخت اور علاج کے ذریعے آنکھوں کے بعض امراض کو بروقت قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ دوسرا، بہتر خاندانی منصوبہ بندی میں مدد ملے گی، کیونکہ جو خاندان جینیاتی بیماریوں کے خطرے سے واقف ہوں گے وہ اپنی نسلوں کی صحت کے لیے زیادہ محتاط فیصلے کر سکتے ہیں۔ تیسرا، طویل المدت صحتی اخراجات میں کمی آئے گی، کیونکہ بروقت اسکریننگ اور علاج مہنگے اور پیچیدہ علاج کی ضرورت کو کم کر دے گا۔
ڈاکٹر العیسیٰ نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، بشمول مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال سے اس پروگرام کے اثرات کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے جینیاتی اسکریننگ اور آنکھوں کے امراض کی تشخیص میں وقت اور وسائل کی بچت ممکن ہوگی، جبکہ بیماریوں کی درست اور بروقت شناخت بھی ممکن ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدامات سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں، جس میں صحت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور عوامی فلاح کے اقدامات کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اسکریننگ پروگرام صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی اور اقتصادی منصوبہ بھی ہے۔ نابینا افراد کی سماجی شمولیت، تعلیم، روزگار اور معیارِ زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ مزید برآں، موروثی امراض کی بروقت شناخت سے خاندانوں کے لیے فیصلہ سازی آسان ہوگی اور وہ بہتر طور پر اپنی آنے والی نسلوں کی صحت کے بارے میں محتاط منصوبہ بندی کر سکیں گے۔
سعودی عرب میں اس پروگرام کے لیے تحقیقاتی ڈیٹا اور مقامی مطالعات نے بھی اس کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ مقامی آبادی میں جینیاتی نقائص کی شرح، خاندانی شادیوں کے اثرات اور مخصوص جینیاتی تبدیلیاں، جیسے CYP1B1، ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اگر وقت پر مداخلت نہ کی گئی تو مستقبل میں نابینا افراد کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ قومی اسکریننگ پروگرام کو ہر سطح پر نافذ کیا جائے تاکہ بیماریوں کے اثرات کم سے کم ہوں۔
ڈاکٹر العیسیٰ نے زور دیا کہ اس پروگرام کا نفاذ نہ صرف انفرادی مریضوں کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ صحتی نظام پر دباؤ کم ہوگا، تعلیمی اداروں اور روزگار کے شعبوں میں زیادہ شمولیت ممکن ہوگی، اور معاشی بوجھ میں کمی آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بروقت تشخیص اور علاج کے ذریعے آنکھوں کے امراض سے متاثرہ افراد کی زندگی کے معیار میں واضح بہتری لائی جا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، موروثی امراضِ چشم کی ابتدائی اسکریننگ کے لیے قومی حکمتِ عملی میں تعلیمی اور آگاہی مہمات، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، اور صحت کے نظام میں مضبوطی جیسے اقدامات شامل ہونے چاہئیں۔ عوامی آگاہی کے ذریعے خاندانوں کو جینیاتی بیماریوں کے خطرات سے مطلع کیا جا سکتا ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اسکریننگ کے عمل کو مؤثر اور تیز بنایا جا سکتا ہے۔
موروثی امراضِ چشم کی بروقت شناخت کے فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین نے حکومت اور نجی شعبے کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس پروگرام میں سرمایہ کاری کریں اور اسے مستحکم بنیادوں پر قائم کریں۔ ابتدائی اسکریننگ کے ساتھ ساتھ، علاج اور مشاورت کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں تاکہ ہر متاثرہ فرد کو بروقت اور مکمل مدد فراہم کی جا سکے۔
سعودی عرب میں موروثی امراضِ چشم کے لیے قومی اسکریننگ پروگرام کا نفاذ ایک تاریخی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو صحت کے شعبے میں جدیدیت، سماجی بہبود، اور معاشی استحکام کو فروغ دے گا۔ یہ اقدام ملک میں نابینا پن کے غیر ضروری کیسز کو کم کرنے، خاندانی منصوبہ بندی کو بہتر بنانے، اور صحتی نظام میں موجودہ وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
سعودی عرب میں موروثی امراضِ چشم کے حوالے سے قومی سطح پر ابتدائی اسکریننگ پروگرام نہ صرف بیماریوں کی بروقت شناخت کے لیے ناگزیر ہے بلکہ یہ سماجی، نفسیاتی اور معاشی فوائد کے حصول کا بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اس اقدام کے ذریعے صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں بہتری آئے گی، اور سعودی وژن 2030 کے تحت ملک میں صحت کی جدید اور پائیدار سہولیات کو فروغ ملے گا۔
