ترکیے نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قائم دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کر کے خطے میں طاقت کے توازن سے متعلق ایک نئی اور اہم بحث چھیڑ دی ہے۔ اس ممکنہ سہ فریقی دفاعی تعاون نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر اسٹریٹیجک حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے پر مشتمل دفاعی اتحاد اگر عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ خطے میں سیکیورٹی، عسکری تعاون اور سیاسی صف بندی کو نمایاں طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اتحاد مشرق وسطیٰ سے آگے جنوبی ایشیا اور یورپ تک اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک اہم مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ شق نیٹو کے آرٹیکل فائیو سے مشابہ ہے، جو رکن ممالک کو ایک دوسرے کے دفاع کا پابند بناتا ہے۔
ترکیہ پہلے ہی نیٹو کا فعال رکن ہے اور اس کے پاس جدید دفاعی ٹیکنالوجی، ڈرون صلاحیت اور علاقائی عسکری تجربہ موجود ہے۔ اگر ترکیہ اس اتحاد کا حصہ بنتا ہے تواتحاد کی عسکری طاقت میں غیر معمولی اضافہ ہوگا
مسلم دنیا میں ایک مضبوط دفاعی بلاک سامنے آئے گا۔مغربی اور علاقائی طاقتوں کے لیے نئی اسٹریٹیجک حقیقت جنم لے گی
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سہ فریقی اتحاد:خطے میں ڈیٹرنس (Deterrence) کو مضبوط کر سکتا ہےمشرق وسطیٰ میں موجود کشیدگی کو نئے زاویے دے سکتا ہے
امریکہ، ایران، اسرائیل اور روس جیسے اہم فریقوں کے لیے نئی حکمت عملی ترتیب دینے کا سبب بن سکتا ہے
ماہرین کے مطابق اگر یہ اتحاد رسمی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ صرف دفاعی معاہدہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک بلاک ہوگا، جو آنے والے برسوں میں عالمی سیاست پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے
