سعودی عرب نے فلسطین کے مسئلے کے حل کی جانب ایک اہم سفارتی پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے غزہ کی پٹی سے متعلق حالیہ سیاسی اور انتظامی اقدامات کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک تفصیلی بیان میں اس بات کا خیرمقدم کیا گیا ہے کہ جامع امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت غزہ کے انتظامی معاملات کو سنبھالنے کے لیے ایک نئی عبوری تنظیم، جسے “فلسطینی قومی کمیٹی” کا نام دیا گیا ہے، تشکیل دی گئی ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق یہ فلسطینی قومی کمیٹی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 کے دائرہ کار میں ایک عارضی اور عبوری ادارے کے طور پر قائم کی گئی ہے، جس کا مقصد غزہ کی پٹی میں انتظامی خلا کو پُر کرنا اور وہاں کے شہریوں کے روزمرہ معاملات کو منظم انداز میں چلانا ہے۔ سعودی عرب نے واضح کیا کہ مملکت ہر اس سیاسی، سفارتی اور انتظامی کوشش کی حمایت جاری رکھے گی جو خطے میں استحکام کو فروغ دے، کشیدگی میں کمی لائے اور ایک ہمہ گیر سیاسی حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے۔
اپنے بیان میں سعودی عرب نے غزہ میں جاری جنگ کو روکنے کے لیے کی جانے والی بین الاقوامی کوششوں کو بھی سراہا، خصوصاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کیا گیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں، اسرائیلی افواج کے انخلاء سے متعلق ان کے عزم، اور مغربی کنارے کے کسی بھی حصے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے منصوبوں کی مخالفت کو مثبت پیش رفت سمجھتی ہے۔ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ایسے اقدامات خطے میں پائیدار امن کے قیام کی جانب عملی قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔
سعودی عرب نے اس موقع پر علاقائی اور بین الاقوامی ثالثی کردار ادا کرنے والے ممالک کی سفارتی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ وزارت خارجہ کے بیان میں قطر، مصر اور ترکیہ کے کردار کو خاص طور پر سراہا گیا، جنہوں نے مذاکرات، سفارتی روابط اور سیاسی مکالمے کے ذریعے بحران کے پرامن حل کے لیے مسلسل کاوشیں کیں۔ سعودی عرب کے مطابق ان ممالک کی کوششیں اس امر کی عکاس ہیں کہ خطے کے اہم کھلاڑی غزہ کے مسئلے کو جنگ کے بجائے سفارتکاری کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔
بیان میں فلسطینی قومی کمیٹی کے کردار کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس عبوری ادارے کی حمایت ناگزیر ہے تاکہ وہ غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کے روزمرہ امور مؤثر انداز میں انجام دے سکے۔ سعودی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اس کمیٹی کے ذریعے غزہ اور مغربی کنارے کے درمیان ادارہ جاتی اور جغرافیائی ربط کو برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ فلسطینی علاقوں کو الگ تھلگ کرنے یا تقسیم کرنے کی کوئی بھی کوشش مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دے گی۔
سعودی عرب نے واضح الفاظ میں غزہ کی پٹی کو کسی بھی شکل میں فلسطینی ریاست کے مجموعی ڈھانچے سے الگ کرنے یا مستقل طور پر تقسیم کرنے کے تمام منصوبوں کو مسترد کر دیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق غزہ اور مغربی کنارے فلسطینی ریاست کے دو لازم و ملزوم حصے ہیں، اور ان کے درمیان سیاسی، انتظامی اور جغرافیائی وحدت کا برقرار رہنا ہی دیرپا امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔
سعودی بیان میں جنگ بندی کو مستحکم بنانے کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ مملکت نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں فائر بندی کی تمام خلاف ورزیوں کو روکا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی فریق کی جانب سے کشیدگی کو دوبارہ ہوا نہ دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، تاکہ وہاں کے شہری بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہیں۔
وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ غزہ کے مختلف علاقوں میں ابتدائی بحالی اور تعمیر نو کے منصوبوں کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ سعودی عرب کے مطابق انفراسٹرکچر کی بحالی، رہائشی علاقوں کی تعمیر نو، صحت اور تعلیم کے شعبوں کی بحالی فلسطینی عوام کی زندگیوں کو معمول پر لانے کے لیے ناگزیر ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ تعمیر نو کے یہ اقدامات نہ صرف انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو پورا کریں گے بلکہ خطے میں استحکام کے عمل کو بھی تقویت دیں گے۔
سعودی عرب نے اس امر پر بھی زور دیا کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی قومی اتھارٹی کو اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالنے کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ وزارت خارجہ کے مطابق فلسطینی قومی اتھارٹی کی واپسی ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے غزہ اور مغربی کنارے کے تمام فلسطینی علاقوں میں ایک متحد انتظامی نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔
بیان میں اس بات کو واضح کیا گیا کہ فلسطینی قومی اتھارٹی کا فعال کردار اسرائیلی قبضے کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہو گا۔ سعودی عرب نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے سمیت تمام فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ اقوام متحدہ کی قراردادوں، عرب امن اقدام اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
سعودی عرب نے ایک بار پھر دو ریاستی حل کے اصول کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق خطے میں دیرپا امن اسی وقت ممکن ہے جب 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہو، جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو۔ بیان میں کہا گیا کہ یہی وہ حل ہے جسے عالمی برادری کی اکثریت، اقوام متحدہ کی قراردادیں اور عرب امن منصوبہ تسلیم کرتے ہیں۔
آخر میں سعودی عرب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مملکت آئندہ بھی فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت جاری رکھے گی اور ہر اس بین الاقوامی کوشش کا ساتھ دے گی جو انصاف پر مبنی، جامع اور پائیدار امن کے قیام کی جانب پیش رفت کرے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق غزہ کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی، اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری ہے، جس کا منصفانہ حل پورے مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
