سعودی عرب میں دہشت گردی کے الزامات ثابت ہونے پر تین افراد کو سزائے موت سنادی گئی۔ سعودی میڈیا کے مطابق سزائے موت پانے والوں میں حسین بن سالم بن محمد العمری، سعود بن ہلیل بن سعود العنزی اور بسام محسن مران السبیعی شامل ہیں۔
سعودی سیکیورٹی اداروں نے طویل تحقیقات کے بعد تینوں ملزمان کو گرفتار کیا، جس کے بعد مقدمہ خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے شریعتِ اسلامی اور سعودی قوانین کے تحت کیس کی مکمل سماعت کے بعد تینوں افراد کو سزائے موت کا حکم سنایا۔
سعودی وزارت داخلہ کے مطابق تینوں افراد سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں میں دھماکہ خیز مواد نصب کرنے، اہلکاروں کو قتل کرنے کی کوشش اور دہشت گرد عناصر کو پناہ اور سہولت فراہم کرنے جیسے سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے۔
وزارت داخلہ نے اپنے جاری کردہ بیان میں واضح کیا ہے کہ ملک کے امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف قانون پوری سختی سے نافذ کیا جاتا رہے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سعودی عرب اپنے شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ریاستی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والوں کو عبرت ناک انجام تک پہنچایا جائے گا۔
