ریاض: سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران توانائی کے شعبے میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کی مفاہمتی یادداشت (MoU) کی منظوری بھی دے دی گئی، جسے دونوں برادر ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے فروغ کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو سلطانِ عمان کی جانب سے موصول ہونے والے خط اور شام کے صدر سے ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ کابینہ نے غزہ کی پٹی کے لیے پیش کیے گئے جامع امن منصوبے اور فلسطینی نیشنل کمیٹی کی جانب سے غزہ کے انتظام سنبھالنے کے اقدام کو سراہا، اور اسے خطے میں استحکام کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔
سعودی کابینہ نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ سعودی عرب امریکی صدر کی جانب سے امن کونسل کے قیام اور امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تاہم مستقل اور منصفانہ امن کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں غزہ میں جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے، اسرائیلی خلاف ورزیوں کو روکنے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کارروائیوں کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔
سعودی کابینہ نے واضح کیا کہ فلسطینی نیشنل اتھارٹی غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھالے اور اس عمل کے نتیجے میں اسرائیلی فورسز کے مکمل انخلاء کو یقینی بنایا جائے۔
کابینہ نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے اور یہی خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔
سعودی عرب نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ انصاف پر مبنی حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
