یمن میں توانائی کے بحران پر قابو پانے اور بنیادی سہولیات کی بحالی کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ یمنی وزارتِ توانائی و بجلی، یمنی آئل کمپنی بترومسيلۃ اور سعودی ترقیاتی و تعمیراتی پروگرام برائے یمن (SDRPY) کے درمیان ایک سہ فریقی معاہدے پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد ملک کے مختلف صوبوں میں قائم 70 سے زائد بجلی پیدا کرنے والے پاور اسٹیشنوں کو پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل فراہمی اور مالی معاونت کو یقینی بنانا ہے۔
معاہدے کے تحت مجموعی طور پر 33 کروڑ 90 لاکھ لیٹر ڈیزل اور مازوت فراہم کیا جائے گا، جس کی کل مالیت 8 کروڑ 12 لاکھ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔ یہ ایندھن یمن بھر کے پاور اسٹیشنوں میں بجلی کی پیداوار کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، جس سے توانائی کے شعبے میں استحکام آئے گا اور قومی تنصیبات کی بلا تعطل فعالیت ممکن ہو سکے گی۔
یمنی حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف یمنی اداروں کی آپریشنل صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک کی معاشی بحالی اور ترقی کے عمل کو بھی تقویت ملے گی۔ بجلی کی فراہمی میں بہتری کے نتیجے میں اسپتالوں، طبی مراکز، اسکولوں، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کی کارکردگی بہتر ہوگی، جس کا براہِ راست فائدہ عام شہریوں کو پہنچے گا۔
معاہدے کے تحت فراہم کی جانے والی یہ مالی امداد یمن کے مرکزی بینک پر غیر ملکی زرِ مبادلہ کے دباؤکو کم کرنے میں بھی مدد دے گی، جبکہ یمنی وزارتِ خزانہ کے بجٹ پر ایندھن اور بجلی کے اخراجات کا بوجھ بھی نمایاں طور پر ہلکا ہو جائے گا۔ ایندھن کی شفاف اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے ایک مشترکہ نگرانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو پاور اسٹیشنوں کی اصل ضروریات کے مطابق تقسیم اور نگرانی کے فرائض انجام دے گی۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے سعودی ترقیاتی و تعمیراتی پروگرام برائے یمن کے تحت اس سے قبل بھی یمن کے توانائی شعبے کی بحالی کے لیے نمایاں مالی امداد فراہم کی ہے، جس میں 2018 میں 18 کروڑ ڈالر، 2021 میں 42 کروڑ 20 لاکھ ڈالر اور 2022 میں 20 کروڑ ڈالر شامل ہیں۔ تازہ ترین امداد سال 2026 کے لیے مختص کی گئی ہے، جسے یمن کے توانائی بحران سے نکلنے کی سمت ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف یمن میں بجلی کے شعبے کو سہارا دے گا بلکہ طویل المدتی طور پر سماجی استحکام، انسانی خدمات کی بہتری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

Add A Comment