سعودی عرب نے ایک تاریخی اور منفرد اقدام کرتے ہوئے دنیا میں پہلی مرتبہ اونٹوں کے لیے باقاعدہ ’’کیمل پاسپورٹ‘‘ کے اجرا کا اعلان کر دیا ہے، جو نہ صرف ایک شناختی دستاویز ہوگا بلکہ اونٹوں کے شعبے کو جدید خطوط پر منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس اقدام کو عالمی سطح پر لائیو اسٹاک مینجمنٹ اور ڈیجیٹل ریگولیٹری نظام میں ایک انقلابی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
العربیہ کے مطابق سعودی وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت نے اونٹوں کی باقاعدہ شناخت، ملکیت کے تعین اور ریکارڈ کو محفوظ بنانے کے لیے ’’کیمل پاسپورٹ‘‘ منصوبہ متعارف کرایا ہے۔ یہ ایک جدید ڈیجیٹل اور ریگولیٹری ٹول ہے جس کا مقصد اونٹوں کے شعبے کو منظم کرنا، مارکیٹ میں شفافیت پیدا کرنا اور اس شعبے کی ساکھ کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
اس اہم منصوبے کا باضابطہ افتتاح سعودی نائب وزیر ماحولیات، پانی و زراعت منصور المشیطی نے کیا۔ وزارت کے مطابق کیمل پاسپورٹ ایک جامع شناختی دستاویز کے طور پر کام کرے گا، جس میں ہر اونٹ کی مکمل اور مستند معلومات درج ہوں گی۔ ان میں مائیکروچپ نمبر، پاسپورٹ نمبر، اونٹ کا نام، تاریخِ پیدائش، نسل، جنس، رنگ، جائے پیدائش، تاریخ اور مقامِ اجرا کے ساتھ ساتھ جانور کی واضح تصویر بھی شامل ہوگی تاکہ شناخت میں کسی قسم کا ابہام نہ رہے۔
وزارت نے بتایا کہ یہ منصوبہ عمر، جنس، نسل اور رنگ کے لحاظ سے اونٹوں کی آبادی سے متعلق درست اور مستند اعداد و شمار فراہم کرے گا، جو مستقبل کی اسٹریٹیجک منصوبہ بندی، پالیسی سازی اور تحقیق کے لیے نہایت اہم ثابت ہوں گے۔ اس ڈیٹا کی مدد سے لائیو اسٹاک کے شعبے کو مزید مؤثر انداز میں ترقی دی جا سکے گی۔
حکام کے مطابق کیمل پاسپورٹ ایک سرکاری دستاویز ہوگی، جس میں اونٹ کی نسل، ویکسینیشن کی تفصیلات اور مکمل میڈیکل ریکارڈ شامل ہوگا۔ یہ تمام طبی معلومات ویٹرنری حکام کی جانب سے تصدیق شدہ ہوں گی، جس سے نہ صرف جانوروں کی صحت بہتر بنائی جا سکے گی بلکہ بیماریوں کی بروقت تشخیص اور کنٹرول میں بھی مدد ملے گی۔
وزارت کا کہنا ہے کہ اونٹوں کے پاسپورٹ کے اجرا سے ان کی خرید و فروخت کا عمل بھی منظم ہو جائے گا، جس سے مارکیٹ میں شفافیت بڑھے گی اور اونٹ مالکان کے حقوق کا مؤثر تحفظ ممکن ہو سکے گا۔ اس اقدام سے غیر قانونی تجارت اور تنازعات میں بھی واضح کمی آنے کی توقع ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کے قومی ورثے میں اس وقت تقریباً 2.2 ملین اونٹ رجسٹرڈ ہیں، جن میں سب سے زیادہ تعداد ریاض ریجن میں پائی جاتی ہے۔ ریاض میں قومی ورثے کے طور پر رجسٹرڈ اونٹوں کی تعداد 6 لاکھ 64 ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے، جو اس جانور کی اہمیت اور مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔
واضح رہے کہ اونٹ ہزاروں برس سے عرب دنیا کی ثقافت، معیشت اور قومی شناخت کی علامت رہے ہیں۔ عرب خطے میں اونٹ پالنے والے اور چرواہے روایتی طور پر اپنے اونٹوں کا شجرہ نسب محفوظ رکھتے ہیں، جسے فخر اور عزت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کیمل پاسپورٹ کا اجرا دراصل اسی قدیم روایت کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی ایک شاندار مثال ہے
