ریاض: برطانوی شہزادہ ولیم کی آج ریاض آمد سعودی اور برطانوی شاہی خاندانوں کے درمیان ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط خصوصی تعلق کی نئی توثیق قرار دی جا رہی ہے۔ یہ رشتہ ملکہ الزبتھ دوم کے دورِ حکومت کے ابتدائی برسوں میں مضبوط ہوا اور وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوتا گیا۔
نیوزذرائع کے مطابق یہ دورہ 43 سالہ شہزادہ ولیم کے لیے جذباتی اہمیت بھی رکھتا ہے، کیونکہ وہ اپنی مرحوم والدہ شہزادی ڈیانا کے نقش قدم پر چل رہے ہیں، جنہوں نے 1986 میں اپنے شوہر اور اُس وقت کے پرنس چارلس کے ہمراہ سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا تھا۔ اس وقت شہزادی ڈیانا کی عمر 25 برس تھی جبکہ ولیم محض تین سال کے تھے۔
شہزادہ ولیم کی زندگی کا ایک بڑا موڑ 1997 میں آیا، جب وہ 15 برس کے تھے اور شہزادی ڈیانا پیرس میں ایک کار حادثے میں انتقال کر گئیں۔ آج ان کا یہ دورہ نہ صرف سفارتی اہمیت رکھتا ہے بلکہ ایک ذاتی تسلسل بھی ظاہر کرتا ہے۔
کینسنگٹن پیلس کے مطابق یہ شہزادہ ولیم کا پہلا سولو دورہ ہے جسے ’تجارت، توانائی اور سرمایہ کاری کے باہمی تعلقات‘ کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ دورہ ریاض میں ہونے والے ورلڈ ڈیفنس شو کے موقع پر ہو رہا ہے۔ برطانیہ چاہتا ہے کہ سعودی عرب نیکسٹ جنریشن ٹیمپیسٹ لڑاکا طیاروں کے پروگرام میں شراکت دار بنے۔
مئی 2025 میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے لندن کا دورہ کیا تھا، جہاں برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے مملکت کو ’خلیج میں سلامتی و استحکام کے لیے اہم شراکت دار‘ قرار دیا تھا۔
شہزادہ ولیم 2018 میں اسرائیل اور فلسطین کا تاریخی سرکاری دورہ کر چکے ہیں — جو برطانوی شاہی خاندان کے کسی فرد کا پہلا باضابطہ دورہ تھا۔ اگرچہ برطانیہ نے اسے غیر سیاسی قرار دیا، تاہم ان کے ایک بیان کہ "برطانیہ فلسطینیوں کو نہیں بھولے گا” نے بعض اسرائیلی سیاست دانوں میں ناراضی پیدا کی تھی۔
اسی دورے کے دوران انہوں نے یروشلم میں اپنی پردادی شہزادی ایلس کے مقبرے پر حاضری بھی دی تھی، جنہوں نے دوسری عالمی جنگ میں یہودیوں کی مدد کی تھی۔ یہ پہلو شہزادہ ولیم کے دوروں میں ایک ذاتی اور تاریخی رنگ بھی شامل کرتا ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شاہ چارلس سوم کی صحت سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔ ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال (2022) کے بعد شاہ چارلس تخت نشین ہوئے، تاہم کینسر کی تشخیص کے اعلان کے بعد شاہی ذمہ داریوں کی ترتیب میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
برطانوی جریدے "ٹیٹلر” کے مطابق شہزادہ ولیم کا یہ دورہ تخت کے لیے ان کی تیاری کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
برطانیہ اور سعودی عرب کے شاہی خاندانوں کے تعلقات کی بنیاد 1919 میں رکھی گئی تھی، جب مستقبل کے شاہ فیصل پہلی مرتبہ برطانیہ گئے تھے۔ اس وقت پہلی جنگ عظیم کے بعد جزیرہ نما عرب میں ابھرتی سیاسی قوت کے طور پر شاہ عبدالعزیز کو تسلیم کیا جا چکا تھا۔
بعد ازاں دونوں ممالک کے شاہی خاندانوں کے درمیان ذاتی اور سفارتی روابط مضبوط ہوتے گئے۔ 2015 میں شہزادہ چارلس شاہ عبداللہ کی وفات پر تعزیت کے لیے ریاض آئے تھے، جبکہ 2018 میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے لندن کا سرکاری دورہ کیا تھا۔
اب شہزادہ ولیم کی آمد کو نہ صرف سفارتی بلکہ تاریخی اور خاندانی تسلسل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
