ریاض میں پاکستان ریجنل اکنامک فورم اور سعودی برج کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے ہیں جس کے تحت پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے ایک منظم بزنس ٹو بزنس پلیٹ فارم قائم کیا جائے گا، جبکہ اس اقدام میں چینی ٹیکنالوجی کا تعاون بھی شامل ہوگا۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق اس معاہدےکےتحت سعودی-پاکستان برج انیشی ایٹو کا آغاز کیا گیا ہے جس کا مقصد پاکستان، سعودی عرب اور دیگر علاقائی ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے درمیان مارکیٹ تک رسائی آسان بنانا، سرمایہ کاری کے بہاؤ کو تیز کرنا اور سرحد پار اشتراک عمل کو مؤثر بنانا ہے۔
اس سلسلےمیں مفاہمتی یادداشت ریاض میں اعلیٰ سرکاری اور ادارہ جاتی نمائندوں کی موجودگی میں طے پائی اور اس فریم ورک کو سعودی عرب کے وژن 2030 سے ہم آہنگ کیا گیا ہے، جس میں رسمی روابط کے بجائے عملی اور نتائج پر مبنی تعاون کو ترجیح دی گئی ہے۔
معاہدے کے تحت قائم ہونے والا پلیٹ فارم ابتدائی طور پر تین سال کے لیے فعال رہے گا اور اسے ایک مستقل میکنزم کی حیثیت دی جائے گی جو کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں اور فنڈز کے درمیان عملی بنیادوں پر لین دین اور مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھانے میں سہولت فراہم کرے گا۔
اس اقدام کے تحت توانائی، معدنیات، اسپورٹس گڈز مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس، فوڈ اور ایگرو پروسیسنگ، صحت، ٹیکنالوجی، صنعتی پیداوار، تعمیرات اور اسٹریٹجک سروسز سمیت متعدد اہم شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ منصوبے کے عملی خدوخال میں شعبہ جاتی وفود کے تبادلے، مارکیٹ انٹری اور سافٹ لینڈنگ پروگرامز، ریگولیٹری اداروں سے رابطہ کاری، مشترکہ سرمایہ کاری فورمز کا انعقاد اور ایک ون اسٹاپ برج ڈیسک کا قیام شامل ہے تاکہ دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کو درپیش انتظامی اور قانونی رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے۔
معاشی ماہر ہارون شریف کے مطابق پاکستان ریجنل اکنامک فورم پہلے ہی سعودی حکام اور پاکستان کی اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے ساتھ مل کر تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کے بزنس ٹو بزنس مشترکہ منصوبوں کی نشاندہی اور انہیں حتمی شکل دینے میں کردار ادا کر چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات کو ایک نئی سمت دے گا بلکہ خطے میں سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی تعاون کے ایک مؤثر ماڈل کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خلیجی سرمایہ کاری اور چینی ٹیکنالوجی کے اشتراک سے علاقائی معیشت میں نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
