ریاض: سعودی خواتین نے وزارتِ داخلہ کے سکیورٹی نظام میں نمایاں اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے، اور فیلڈ، انتظامی و سپیشلائزڈ امور میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سعودی خواتین کی شمولیت نہ صرف مقامی اور علاقائی سطح تک محدود ہے بلکہ بین الاقوامی تقریبات اور نمائشوں تک پھیلی ہوئی ہے، جہاں وہ سکیورٹی آپریشنز میں معاونت فراہم کرتی ہیں، نمائشوں کا انعقاد کرتی ہیں اور کمیونٹی و خاندانی طب کی خدمات انجام دیتی ہیں۔
ریاض میں جاری ورلڈ ڈیفنس شو میں وزارت داخلہ نے اس امر کو اجاگر کیا ہے کہ خواتین امن و امان، عوامی سلامتی کے قیام اور جان و مال کے تحفظ میں کس قدر اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کی خدمات حجاجِ کرام کی سکیورٹی اور خدمت تک بھی پھیلی ہوئی ہیں، جن میں حج اور عمرہ کے دوران نظم و نسق، نگرانی، ترجمہ، ٹریفک کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔
مزید برآں، سعودی خواتین جرائم کی روک تھام، ماحولیاتی تحفظ، دستاویزات کی بحالی اور الیکٹرونک خدمات کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ڈیجیٹل تبدیلی کے تقاضوں کے مطابق، وہ ڈیٹا کے تجزیے اور عملی طریقہ کار کی بہتری میں بھی حصہ لیتی ہیں، جس سے وزارتِ داخلہ کے جدید سکیورٹی اقدامات مزید مؤثر بنائے جاتے ہیں۔
سعودی خواتین مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، ریاض اور مشرقی علاقوں میں قائم متحدہ سکیورٹی آپریشنز سینٹرز (911) میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں، جہاں وہ سکیورٹی رپورٹس کا انتظام اور نگرانی کرتی ہیں، سکیورٹی کے فوری اقدامات کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں اور شہریوں کی حفاظت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
تحلیل کاروں کے مطابق، سعودی خواتین کی شمولیت نہ صرف سکیورٹی نظام کو مضبوط کر رہی ہے بلکہ یہ خطے میں خواتین کے معاشرتی اور پیشہ ورانہ کردار کی ترقی کی علامت بھی ہے، جس سے سعودی عرب میں خواتین کی شمولیت اور قیادت کے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔
