ریاض: سعودی عرب کی عدالت نے خالد بن قرار الحربی، جو پبلک سیکیورٹی کے سابق ڈائریکٹر تھے، کو سنگین مالی اور انتظامی بدعنوانیوں کے الزامات میں 20 سال قید اور 10 لاکھ ریال جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق عدالت نے لیفٹیننٹ جنرل کو ملازمت سے برطرف کرنے کے ساتھ ہی تحقیقاتی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
عدالت کے فیصلے میں بتایا گیا کہ خالد الحربی پر اختیارات کے ناجائز استعمال، عوامی فنڈز میں ہیرا پھیری، جعلسازی اور رشوت وصول کرنے کے الزامات تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق رشوت اور دیگر غیر قانونی ذرائع سے جمع کی گئی ایک کروڑ سے زائد ریال، تحائف اور زرعی زمین بھی ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جرمانے کی رقم 10 لاکھ ریال حکومتی خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔
سعودی عدالت نے یہ فیصلہ فوجداری قانون کے تحت دیا، جس میں مالی بدعنوانی اور سرکاری اختیارات کے غلط استعمال کو سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران واضح کیا گیا کہ ملکی خزانے کے نقصان اور عوامی اعتماد کو متاثر کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
سابق جنرل خالد الحربی کے خلاف یہ کارروائی سعودی عرب کی حکومت کی شفافیت اور سرکاری بدعنوانی کے خلاف پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔ عرب میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اس فیصلے کے بعد دیگر سرکاری اہلکاروں میں احتیاط اور ذمہ داری بڑھانے کی توقع ہے، جبکہ عوامی سطح پر بھی مالی شفافیت کے اصول مضبوط ہوں گے۔
یہ فیصلہ سعودی عرب میں فوجداری قانون کے تحت مالی بدعنوانی کے خلاف سخت موقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں اعلیٰ عہدے داروں کو بھی قانونی کارروائی سے مستثنیٰ نہیں رکھا گیا۔
