سعودی عرب میں ماحولیاتی تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کے فروغ کی کوششوں کو اس وقت ایک بڑی کامیابی ملی جب حالیہ سروے میں یہ انکشاف ہوا کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز رائل ریزرو میں ہزاروں نایاب شکاری پرندے سردیوں کا موسم گزار رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف اس محفوظ علاقے کی عالمی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یہاں کیے گئے حفاظتی اقدامات مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
جنوری کی 16 تاریخ سے 26 تاریخ تک جاری رہنے والے ایک منظم قومی سروے کے دوران ماہرین کی ٹیموں نے پورے ریزرو میں تفصیلی مشاہدہ کیا۔ اس عمل کو سائنسی بنیادوں پر انجام دیا گیا تاکہ گنتی میں کسی قسم کی غلطی یا دہری اندراج سے بچا جا سکے۔ سروے کے اوقات کار خاص طور پر صبح سویرے اور شام کے وقت رکھے گئے، کیونکہ یہی وہ اوقات ہیں جب شکاری پرندے زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔ اس حکمت عملی کے ذریعے درست اور قابلِ اعتماد ڈیٹا حاصل کیا گیا۔
سروے کے نتائج کے مطابق ریزرو میں 2 ہزار 850 سے زائد نایاب شکاری پرندے سردیوں میں موجود پائے گئے۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد اسٹیپ ایگل (Steppe Eagle) کی ریکارڈ کی گئی جو عالمی سطح پر خطرے سے دوچار نسل سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بلیک کائٹ (Black Kite) کی تعداد بھی ایک ہزار دو سو سے تجاوز کر گئی، جبکہ 35 سینیریئس گدھ (Cinereous Vulture) اور 25 ایسٹرن امپیریل ایگل (Eastern Imperial Eagle) بھی ریکارڈ کیے گئے۔ ان پرندوں کی نمایاں موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریزرو ایک محفوظ اور موزوں مسکن فراہم کر رہا ہے۔
خصوصی طور پر اسٹیپ ایگل کی بڑی تعداد ماہرین کے لیے خوش آئند خبر ہے، کیونکہ یہ نسل دنیا بھر میں تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ ایسے میں اس ریزرو کا کردار ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر مزید اہم ہو جاتا ہے۔ سردیوں کے دوران محفوظ قیام گاہیں ان پرندوں کی بقا کے لیے نہایت ضروری ہوتی ہیں، اور یہی خصوصیت اس علاقے کو عالمی سطح پر نمایاں بناتی ہے۔
ریزرو انتظامیہ نے نہ صرف پرندوں کی نگرانی پر توجہ دی بلکہ ان کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات بھی کیے۔ نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف ڈیولپمنٹ کے تعاون سے 2024 میں درمیانی وولٹیج کی بجلی کی لائنوں اور ٹاورز کو محفوظ بنایا گیا تاکہ پرندوں کو بجلی کے کرنٹ سے بچایا جا سکے۔ دنیا بھر میں بڑے شکاری پرندوں کی اموات کی ایک بڑی وجہ بجلی کی غیر محفوظ تاریں ہوتی ہیں، اس لیے یہ اقدام انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
حالیہ سروے کے دوران ان بجلی کی لائنوں کے نیچے کسی بھی پرندے کی ہلاکت ریکارڈ نہیں کی گئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حفاظتی اقدامات مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ یہ کامیابی مستقبل میں دیگر علاقوں کے لیے بھی ایک عملی مثال فراہم کرتی ہے کہ کس طرح انفراسٹرکچر کو ماحول دوست بنایا جا سکتا ہے۔
ریزرو اتھارٹی قومی سطح کے پروگراموں میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ خاص طور پر عالمی سطح پر خطرے سے دوچار اسٹیپ ایگل کی نگرانی کے قومی پروگرام میں اس کی شمولیت اہم ہے۔ یہ پروگرام سعودی آرنیتھولوجیکل سوسائٹی، نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف ڈیولپمنٹ، ٹیلاڈ کمپنی اور برڈ لائف انٹرنیشنل کے اشتراک سے چلایا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد مختلف انواع کی درست تعداد، ان کے قیام کے مقامات اور نقل مکانی کے راستوں کی دستاویز بندی کرنا ہے۔
اس پروگرام کے تحت حاصل ہونے والا ڈیٹا مستقبل کی پالیسی سازی اور تحفظ کے منصوبوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سائنسی بنیادوں پر کی جانے والی یہ نگرانی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ نایاب پرندوں کے لیے محفوظ ماحول برقرار رکھا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔
شاہ سلمان بن عبدالعزیز رائل ریزرو کی اہمیت صرف شکاری پرندوں تک محدود نہیں۔ اس وسیع علاقے میں پانچ عالمی سطح پر تسلیم شدہ اہم پرندہ جاتی علاقے (Important Bird Areas) شامل ہیں، جبکہ ایک علاقہ بین الاقوامی سطح پر کلیدی حیاتیاتی تنوع کے علاقے (Key Biodiversity Area) کے طور پر تسلیم شدہ ہے۔ یہ اعزازات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریزرو عالمی حیاتیاتی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق یہاں ریکارڈ کی جانے والی پرندوں کی مجموعی انواع میں سے تقریباً 88 فیصد مہاجر پرندے ہیں، جبکہ 12 فیصد مستقل رہائشی پرندے ہیں۔ مہاجر پرندوں کی یہ بڑی تعداد اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ریزرو بین الاقوامی نقل مکانی کے راستوں میں ایک اہم پڑاؤ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پرندے ایشیا، یورپ اور افریقہ کے درمیان طویل سفر کے دوران یہاں قیام کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی علاقے میں بڑی تعداد میں شکاری پرندوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ وہاں کا ماحولیاتی نظام متوازن اور صحت مند ہے۔ مناسب خوراک، محفوظ رہائش اور کم انسانی مداخلت ایسے عوامل ہیں جو ان پرندوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ریزرو میں یہ تمام عناصر موجود ہیں۔
یہ کامیابیاں سعودی عرب کے وسیع تر ماحولیاتی وژن اور پائیدار ترقی کے اہداف کے عین مطابق ہیں۔ حکومت کی جانب سے جنگلی حیات کے تحفظ، قدرتی وسائل کی دیکھ بھال اور عالمی معیارات پر پورا اترنے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ریزرو کی کارکردگی اس بات کی عملی مثال ہے کہ منظم منصوبہ بندی اور سائنسی تحقیق کس طرح مثبت نتائج دے سکتی ہے۔
مجموعی طور پر 2 ہزار 850 سے زائد نایاب شکاری پرندوں کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شاہ سلمان رائل ریزرو نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم ماحولیاتی پناہ گاہ بن چکا ہے۔ بجلی کی لائنوں کو محفوظ بنانے جیسے اقدامات، قومی نگرانی پروگراموں میں شمولیت اور عالمی درجہ بندیوں کا حصول اس بات کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ یہ علاقہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ پیش رفت اس امید کو تقویت دیتی ہے کہ آئندہ برسوں میں بھی ایسے اقدامات جاری رہیں گے اور سعودی عرب ماحولیاتی تحفظ کے میدان میں اپنی قیادت کو مزید مستحکم کرے گا۔
