الاحساء سعودی عرب کے مشرقی صوبے کے تاریخی و زرعی مرکز میں جاری پام ویلیج کی سرگرمیاں نہ صرف ثقافتی رنگ لیے ہوئے ہیں بلکہ یہ مقامی معیشت، گھریلو صنعت اور خواتین کی کاروباری صلاحیتوں کو بھی نئی جہت دے رہی ہیں۔ سعودی نیوز ایجنسی کے مطابق اس میلے نے کھجور کے درخت کو محض ایک زرعی پیداوار سے آگے بڑھا کر تخلیقی مصنوعات اور ویلیو ایڈڈ صنعت کا محور بنا دیا ہے۔
پام ولیج میں شریک گھریلو صنعت سے وابستہ خاندان بغیر ملاوٹ اور اعلیٰ معیار کی قدرتی مصنوعات تیار کر رہے ہیں۔ کھجور سے بننے والی غذائی اشیا، جلد کی نگہداشت کے لوازمات اور دیگر دستکاری مصنوعات خریداروں کی توجہ حاصل کر رہی ہیں، جس سے فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ رجحان مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہا ہے۔
ان کامیاب مثالوں میں مقامی برانڈ افراسیون کیئرنمایاں ہے، جس کی بانی افراح الحربی ہیں۔ انہوں نے سکری کھجور کی شکل سے متاثر ہو کر ایک منفرد صابن تیار کیا ہے جو کھجور کی گھٹلی اور پام آئل سے بنایا جاتا ہے۔ یہ صابن کیمیکل سے پاک اور مکمل طور پر قدرتی اجزاء پر مشتمل ہے، خاص طور پر ان بچوں اور افراد کے لیے جو عام صابن سے جلدی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔افراح الحربی کے مطابق انہیں یہ خیال تیرہ برس قبل اس وقت آیا جب وہ ایکزیما میں مبتلا اپنے بچوں کے لیے محفوظ متبادل تلاش کر رہی تھیں۔ تحقیق، تجربات اور مسلسل محنت کے بعد ان کا تصور ایک باقاعدہ اور معیاری مصنوعہ بن گیا، جو آج پام ولیج میں نمائش کے ذریعے خریداروں تک پہنچ رہا ہے۔
افراح الحربی پام ولیج میں کے تعاون سے شریک ہیں۔ اس ادارےنیشنل سنٹر فارپام اینڈ ڈیٹس کی سرپرستی کے باعث انہیں نہ صرف مقامی بلکہ قومی سطح کی نمائشوں میں شرکت کا موقع ملا، جس سے ان کے برانڈ کی پہچان اور فروخت میں اضافہ ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ کھجور کے درخت نے انہیں معاشی خودمختاری اور تخلیقی اظہار کا پلیٹ فارم فراہم کیا۔
پام ولیج میں مملکت بھر سے خاندانوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔ یہ میلہ کسانوں، مقامی صنعت کاروں اور دستکاروں کو اپنی کھجوریں اور ان سے تیار کردہ مصنوعات براہِ راست خریداروں تک پہنچانے کا قیمتی موقع فراہم کر رہا ہے۔ اس سے نہ صرف درمیانی اخراجات کم ہوتے ہیں بلکہ منافع کا بڑا حصہ براہِ راست تیار کنندگان تک پہنچتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کھجور سے جڑی ویلیو ایڈڈ مصنوعات سعودی معیشت کے تنوع میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب مملکت غیر تیل شعبوں کو فروغ دینے کی حکمتِ عملی پر گامزن ہے۔افراح الحربی کا کہنا ہے کہ کامیابی کا راستہ نئے اور تخلیقی خیالات پر یقین اور مستقل مزاجی سے عمل میں پوشیدہ ہے۔ پام ولیج اسی سوچ کی عملی تصویر ہے جہاں ایک درخت سے جنم لینے والا خیال نہ صرف کاروبار بنتا ہے بلکہ کئی خاندانوں کے لیے خوشحالی کا ذریعہ بھی ثابت ہوتا ہے
