سعودی عرب کی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل سٹاف ترکی المالکی نے حال ہی میں ایک اہم اعلان کیا ہے جس میں بتایا گیا کہ ملک کے جدید دفاعی نظام نے پرنس سلطان بیس کے قریب 5 دشمن ڈرونز کو فضاء میں ہی ناکام بنا دیا۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں سعودی دفاعی صلاحیتوں کی مضبوطی اور ملکی سرحدوں کے تحفظ کی واضح عکاسی ہوئی ہے۔ المالکی نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ تمام ڈرونز مکمل طور پر ہدف سے ناکام کر دیے گئے اور شہریوں کو کسی قسم کا جانی نقصان نہیں پہنچا۔
یہ واقعہ سعودی عرب کی دفاعی تیاری اور حفاظتی اقدامات کی ایک اور کامیاب مثال ہے، کیونکہ یہ کارروائی ایسے وقت سامنے آئی جب راس تنورہ ریفائنری کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ المالکی نے وضاحت کی کہ ریفائنری پر حملے کی کوشش کو بروقت ناکام بنا دیا گیا اور ڈرونز کو فضاء میں تباہ کرنے کے باعث ریفائنری کے اندر معمولی آگ لگی، جس پر فوراً قابو پا لیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈرونز کا ملبہ شہری علاقوں کے قریب گرا، لیکن متعلقہ حکام نے فوری کارروائی کر کے تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے تاکہ تنصیب اور شہری آبادی کی حفاظت کی جا سکے۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق، ملک کے دفاعی نظام نے جدید ٹیکنالوجی اور جدید آلات کا استعمال کرتے ہوئے دشمن ڈرونز کا مؤثر جواب دیا۔ کرنل المالکی نے کہا کہ سعودی دفاع کی جانب سے کیے گئے یہ اقدامات شہریوں کی حفاظت اور تنصیبات کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دفاعی نظام میں مسلسل بہتری اور تربیت کے نتیجے میں دشمن کے حملوں کو بروقت ناکام بنایا جا سکتا ہے، اور یہ واقعہ اس صلاحیت کی ایک تازہ مثال ہے۔
مالکی کے مطابق، راس تنورہ ریفائنری کے واقعے کے بعد تمام حفاظتی اقدامات تیز رفتار اور مؤثر انداز میں کیے گئے۔ ریفائنری میں آگ لگنے کے بعد فائر بریگیڈز اور حفاظتی ٹیمیں فوری طور پر متحرک ہوئیں اور معمولی نقصان کو جلد ہی قابو میں کر لیا گیا۔ اس واقعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب نہ صرف دفاع میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے بلکہ خطرات کے فوری ردعمل اور انتظام کے لیے بھی تیار ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھی اس پیش رفت کی رپورٹ دی تھی کہ راس تنورہ ریفائنری کو ڈرون حملے کے بعد احتیاطی طور پر بند کر دیا گیا۔ روئٹرز کے مطابق، ریفائنری میں موجود صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور بندش صرف حفاظتی اقدامات کے لیے کی گئی تھی۔ اس رپورٹ سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ سعودی عرب کی حفاظتی اور دفاعی مشینری کسی بھی حملے کے فوری بعد مؤثر اور منظم ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کرنل المالکی نے مزید کہا کہ ملک کی دفاعی تیاری اور نگرانی کی وجہ سے دشمن کی جانب سے کیے جانے والے ہر حملے کو بروقت اور مؤثر انداز میں ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دفاعی نظام کی جدید تکنیکی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اہلکاروں کی تربیت بھی اس کامیابی کا اہم سبب ہے۔ انہوں نے یہ عزم بھی دہرا یا کہ مستقبل میں بھی کسی بھی حملے کو روکنے کے لیے سعودی دفاعی ادارے ہر وقت تیار رہیں گے اور شہریوں و تنصیبات کی حفاظت ہر حال میں اولین ترجیح ہوگی۔
یہ پیش رفت سعودی دفاع کی مضبوطی اور خطے میں سلامتی کے لیے اس کی ذمہ داری کا بھی عکاس ہے۔ المالکی نے کہا کہ راس تنورہ ریفائنری کو نشانہ بنانے کی کوشش دشمن کی جانب سے واضح جارحیت تھی، مگر سعودی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کر کے اسے ناکام بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی نہ صرف ریفائنری بلکہ خطے کی مجموعی سلامتی کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
المالکی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ شہری آبادیوں کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے اور کسی بھی دفاعی کارروائی میں یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ جانی نقصان یا انسانی ہلاکتیں نہ ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ راس تنورہ ریفائنری پر ڈرونز کے ملبے اور معمولی آگ کے باوجود فوری قابو پانے کی کارروائی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ سعودی عرب نہ صرف جدید دفاعی ٹیکنالوجی رکھتا ہے بلکہ مؤثر اور منظم آپریشن کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
دفاعی ترجمان نے واضح کیا کہ راس تنورہ ریفائنری پر ڈرون حملے کے بعد متعلقہ اداروں نے فوری کارروائی کی اور ریفائنری کے معمولات کو جلد از جلد بحال کرنے کے تمام اقدامات کیے گئے۔ اس دوران شہریوں کی حفاظت، آگ کی روک تھام اور تنصیب کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا گیا تاکہ کسی بھی قسم کا نقصان یا حادثہ نہ ہو۔
مالکی نے اس کامیابی کو سعودی عرب کے دفاعی نظام کی مضبوطی، جدیدیت اور پیشگی منصوبہ بندی کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے اپنی حدود اور اہم تنصیبات کی حفاظت کے لیے جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ اہلکاروں کے ذریعے ایک جامع دفاعی نظام قائم کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کی جانب سے ڈرون حملے جیسے اقدامات کو بروقت ناکام بنانا اسی نظام کی کارکردگی کا مظہر ہے۔
