سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع امریکی سفارت خانے کو دو ایرانی ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں عمارت میں محدود آگ بھڑک اٹھی اور معمولی نقصان پہنچا۔
سعودی وزارت دفاع کے سرکاری ترجمان ترکی المالکی نے ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے بتایا کہ حملے کے وقت سفارت خانہ خالی تھا اور خوش قسمتی سے کسی قسم کے جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
ترجمان نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے پرنس سلطان ایئربیس کے قریب پانچ معاندانہ ڈرونز کو فضاء میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔ان کے مطابق دفاعی افواج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ممکنہ خطرے کو ٹال دیا، جس سے اہم عسکری تنصیبات محفوظ رہیں۔
مزید برآں، دمام کے قریب واقع اہم تیل تنصیب راس التنورہ آئل ریفاینری کو بھی دو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم سعودی فورسز نے انہیں کامیابی سے ناکارہ بنا دیا۔ڈرونز کے ملبے کے باعث ریفائنری کے اندر معمولی آگ لگی، مگر فائر فائٹرز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق ان تمام واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حکام نے واضح کیا کہ مملکت اپنی حساس عسکری اور توانائی تنصیبات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر چوکس ہے اور کسی بھی خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا
ان حالیہ واقعات نے خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق توانائی تنصیبات اور سفارتی مراکز کو نشانہ بنانے کی کوششیں نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی توانائی سپلائی کے لیے بھی خطرے کی علامت ہیں۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ دفاعی نظام مکمل طور پر فعال ہے اور مملکت اپنی خودمختاری اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گی۔
